ہماری صحبت میں رہے اگر اس مدّت تک کوئی ایسی الہامی پیشگوئی ظہور میں آگئی جس کے مقابلہ سے وہ عاجز رہ جائے تو اسی جگہ اپنی لمبی چوٹی کٹا کر اور رشتہ بے سود زنار کو توڑکر اُس پاک جماعت میں داخل ہوجائے جو لَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی توحید سے اور مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ کی کامل رہبری سے گم گشتگان بادیہ شرک و بدعت کو صراط مستقیم کی شاہراہ پر لاتے جاتے ہیں پھر دیکھئے کہ بے انتہا قدرتوں اور طاقتوںؔ کے مالک نے کیسے ایک دم میں اندرونی آلائیشوں سے اُسے صاف کردیا ہے اور کیونکر نجاست کا بھرا ہوا لتّہ ایک صاف اور پاک پیرایہ کی صورت میں آگیا ہے لیکن اگر کوئی پیش گوئی اس چالیس دن کے عرصہ میں ظہور میں نہ آئے تو چالیس دن کے حرجانہ میں سو روپیہ یا جس قدر کوئی ماہواری تنخواہ سرکار انگریزی میں پاچُکا ہو اس کا دو چند ہم سے لے لے اور پھر ایک وجہ معقول کے ساتھ تمام جہان میں ہماری نسبت منادی کرادے کہ آزمائش کے بعد میں نے اس کو فریبی اور جھوٹ پایا یکم اپریل ۱۸۸۷ ؁ء سے اخیر مئی ۱۸۸۷ ؁ء تک اسے مہلت ہے اور یہ بھی واضح رہے کہ اس کے اطمینان کے لئے روپیہ کسی برہمو صاحب کے پاس رکھا جائے گا جو دونوں فریق کے لئے بطور ثالث ہیں اور وہ برہمو صاحب ہمارے جھوٹا نکلنے کی حالت میں خود اپنے اختیار سے جو پہلے بذریعہ تحریر خاص ان کو دیا جائے گا اس آریہ فتح یاب کے حوالہ کردیں گے۔ اور اگر اب بھی روپیہ لینے میں دھڑکا ہو تو اس عمدہ تدبیر پر کہ خود آریہ صاحب سوچیں عمل کیا جائے گا۔ مگر روپیہ بہرصورت ایک معزز برہمُو صاحب (ثالث)