بات بات پر جھاگ اگلی ہے۔ دیکھو بھارت متر مطبوعہ ۲۶۔ اگست ۱۸۸۰ ء ہم نے جو اپنے کسی صفحہ گذشتہ میں اس پنڈت کی نسبت گندہ کا لفظ استعمال کیا ہے تو وہ اسی گندہ زبانی کی وجہ سے ہے جس کا جابجا شہرہ ہوگیا۔ یہاں تک کہ پنڈت شیونارائن صاحب کو بھی اپنے رسالہ برادر ہند ستمبر و اکتوبر ۱۸۸۰ ء میں یہ مشہور واقع لکھنا پڑا۔ ماسوا اس کے اگر ان کے فریب کا کچھ نمونہ دیکھنا ہو تو پرچہ دھرم جیون ۱۳۔ مارچ ۱۸۸۷ ء کو دیکھنا ہی کافی ہے کہ پہلے انہوں نے منشی اندرمن کے مقدمہ کے لئے ہندوؤں میں ایک جوش دیکھ کر اور چندہ دینے پر مستعد پاکر تاڑلیا کہ تنور تو بہت گرم ہے بہتر ہو کہ اس میں ہماری بھی کوئی روٹی پک جائے تب جھٹ پٹ پنڈت جی نے اندرمن کو بذریعہ تار خبر دی کہ میں تمہارا ہمدرد ہوں تمہیں آنا چاہئے۔ خیر وہ ان کے پاس افتان و خیزاں میرٹھ میں آیا۔ پنڈت صاحب نے باتیں بنا ؔ کر اجازت لے لی کہ چندہ ہم جمع کراتے ہیں پھر تو روپیہ پر روپیہ آتے دیکھ کر سنیاسی صاحب کی ایسی نیت بدل گئی کہ سارا روپیہ نگل جانا چاہا۔ مگر منشی اندرمن بھی تو ایک پرانا خورندہ تھا جس نے ایسے کئی سنیاسی کھاپی چھوڑے تھے۔ اس نے پنڈت جی کے طور بے طرح دیکھ کر مراد آباد سے چٹھی لکھی کہ تم نے میرے نام سے ہزاروں روپیہ اکٹھا کرلیا ہے اور مجھ کو ایک کوڑی تک دینا نہیں چاہتے اور خود ہضم کرنا چاہتے ہیں پس میں آپ کے اس جھوٹے سنیاس کی قلعی کھولنے کو تیار ہوں۔