پانسو روپیہ اپنا قرضہ لے لیں تو انہوں نے جواب بھیجا کہ میرے قرضہ کا آپ کو فکر نہیں کرنا چاہئے آپ اسی روپیہ سے رسالہ سراج منیر کو چھاپیں۔ اب تمہیں اے آریو! ذرہ شرمندہ ہونا چاہئے کہ گو ہم نے اسے انبالہ چھاؤنی میں ان مخلص دوستوں کو روپیہ لینے کے لئے کہا مگر انہوں نے وہ جواب دیئے جو اُوپر لکھے ہیں اور اندرمن اور دیانند بھی باہم دوست ہی تھے مگر اخیر میں جو کچھ نجاست نکلی وہ ظاہر ہے۔ قوؔ لہ۔ جس قدر براہین احمقیہ میں الہامات لکھے ہیں سب انہیں فن و فریب سے بنائے گئے ہیں۔ اقول ۔ فن و فریب تو دیانند کا خاصہ ہے جو اسی کے قومی بھائی اندرمن نے ثابت کرکے بھی دکھلا دیا پھر اس کی تعلیم سے تم لوگوں کا خاصہ جو چوری کرنے سے بھی نہ ڈرے اور براہین احمدیہ کا نام براہین احمقیہ کرکے بار بار لکھنا یہ بید بے ثمر کی تہذیب ہے۔ ان بیدوں نے بجز گالیوں اور بدزبانیوں کے اور کیا سکھلایا؟ جابجا اول سے آخر تک یہی شرتیاں ویدوں میں پائی جاتی ہیں کہ اے اندر ایسا کر کہ ہمارے سارے دشمن مرجائیں ان کے بچے مرجائیں اور ہمیشہ کے لئے ان کی دولت ان کا ملک ان کی گوئیں گھوڑے زمین وغیرہ سب ہم کو مل جائے لیکن اندر کی خدائی تو خوب ثابت ہوئی کہ ایک طرف دعائیں تو یہ اور دوسری طرف بجائے دشمنوں کے ہلاک ہونے کے آپ ہی ہندو لوگ تباہ ہوتے گئے۔ چنانچہ مدت دراز سے یہودیوں کی طرح بجز محکومیت اور غلامانہ اطاعت کے