بستہ ہے کہ ہر ایک خلق اپنے وقت پر صادر ہو۔ درشتی۔ نرمی۔ عفو۔ انتقام۔ غضب۔ حلم۔ منع۔ عطاسب وابستہ باوقات ہیں اور ان کی خوبصورتی اور بہتری بھی تب ہی ظہور میں آتی ہے کہ وہ عین اپنے محل پر استعمال کئے جائیں۔ یہی قرآنی فلاسفی ہے جس پر عقلِ سلیم شہادت دیتی ہے۔
غرض جو کچھ اس اعتراض میں نیک بخت آریوں نے ہم پر طعن کرنا چاہا ہے وہ سراسر ان کی نادانی اور کارستانی ہے وہ آج کل بہتان اور افترا کے پتھروں سے دوسروں کو مجروح کرنا چاہتے ہیں مگر انہیں یاد رکھنا چاہیئے کہ یہ پتھر انہیں پر پڑیں گے نہ دوسروں پر۔
کوئی چیز ایسی چھپی ہوئی نہیں جو آخر ظاہر نہ ہو۔ پس اگر ہم درحقیقت فریب پر ہیں تو یہی فریب ہمیں ہلاک کرے گا لیکن اگر ہم راستی پر ہیں اور وہ جو ہمارے دل کو دیکھ رہا ہے وہ اس میں کچھ فریب نہیں پاتا تو اگر آریوں کے پہلے اور آریوں کے پچھلے اور آریوں کے زندے اور آریوں کے مردے بلکہ تمام اولین آخرین مخالف ہمارے نابود کرنے کے لئے جمع ہوجائیں تو ہمیں ہرگز نابود نہیں کرسکتے۔ جب تک ہمارے ہاتھ سے وہ کام انجام پذیر نہ ہوجائے جس کے لئے اللہ جل شانہٗ نے ہمیں مامور کیا ہے۔ سو آریوں کے افترا اور بہتان اور قتل کرنے کی دھمکیاں سب ہیچ اور بے اثر ہیں جن سے ہم ڈرتے نہیں۔ اگر ان کا حسد سے یہ خیال ہو کہ لوگ ان کی طرف کیوں رجوع کرتے ہیں ان کو کسی تدبیر سے بند کرنا چاہیئے تو انہیں سمجھنا چاہیئے کہ لوگ درحقیقت کچھ چیز ہی نہیں اور نہ ہماری لوگوں پر نظر ہے