پکتی رہتی ہے اس کا انجام ہرگز بہتر نہیں ہوگا۔ کیا یہ بات قرین قیاس نہیں کہ جس نے آج یہ واردات کی کل اس سے بڑھ کر کوئی چاند چڑھائے گا۔ کیا انہیں کرتوتوں سے آریہ سماج روشن ہوجائے گی۔ کیا چوروں کے سو دن کے بعد ایک دن کسی سادھ کا نہیں آئے گا۔ اسی واردات کو دیکھئے کہ لالہ بشن داس نے اپنی شرافت سے صبر کیا اور مقدمہ کو عدالت تک نہ پہنچایا ورنہ سکھ صاحب اور اس کے رفیقوں کو بیگانہ صندوق میں ہاتھؔ ڈالنے کا ابھی مزہ معلوم ہوجاتا۔ ہماری دانست میں یہ مقدمہ اب بھی دائر ہونے کے لائق ہے کیونکہ گو لالہ بشن داس کے زیور وغیرہ کا کچھ نقصان نہیں ہوا خیرگیر*ی مگر خطوط کی چوری بھی حسب قانون مروجہ انگریزی ایک چوری ہے۔ جس کی سزا میں شاید تین سال تک قید ہے مسروقہ خطوں کے پیش ہونے سے ثابت ہوسکتا ہے کہ ان خطوط میں کوئی بھی ایسی تحریر نہیں تھی جو اس سکھ یا اس کے دوسرے یاروں سے کچھ تعلق رکھتی ہو بلکہ وہ صرف ایک حسابی معاملہ کے خطوط تھے جو فقط لالہ بشن داس کی ذات سے تعلق رکھتے تھے اور اس کے نج کے مطالب پر مشتمل تھے جن کا بے اجازت کھولنا بھی ایک جرم تھا اب انصاف کی جگہ ہے کہ جن لوگوں کے اپنے ذاتی چال چلن کا یہ حال ہو کہ چوری تک حلال ہے وہ ہم پر کوئی اعتراض کرنے کے لئے کوشش کریں اور اعتراض بھی کیا عمدہ کہ بشن داس کو اس کے امر متعلق کے مخفی رکھنے کی تعلیم کی حالانکہ کسی عقل مند کی یہ رائے نہیں ہوسکتی کہ انسان اپنے تمام اسرار کو عام طور پر فاش اور شائع کردیا کرے تب اس کا نام راست گو ہوگا ورنہ نہیں۔ غور سے دیکھنا چاہیئے کہ جس قدر