عدل کا معاملہ کرو یعنی حق اللہ اور حق العباد بجا لاؤ اور اگر اس سے بڑھ کر ہوسکے تو نہ صرف عدل بلکہ احسان کرو یعنی فرائض سے زیادہ اور ایسے اخلاص سے خدا کی بندگی کرو کہ گویا تم اس کو دیکھتے ہو اور حقوق سے زیادہ لوگوں کے ساتھ مروت و سلوک کرو اور اگر اس سے بڑھ کر ہوسکے تو ایسے بے علت و بے غرض خدا کی عبادت اور خلق اللہ کی خدمت بجالاؤ کہ جیسے کوئی قرابت کے جوش سے کرتا ہے۔ قولہ۔ اکثر عیسائی اور اہل اسلام بھی متفق ہیں کہ سب علوم و فنون آریوں سے تمام جہان میں پھیلے ہیں۔ اقول۔ اول تو یہ بات ہی غلط ہے کیوں کہ انگریزوں کا اس بات پر اتفاق ہوچکا ہے کہؔ انگلستان میں علوم و فنون کا پودہ عرب کے عالیشان مدارس سے آیا ہے اور دسویں صدی میں جب کہ یورپ جہالت میں پڑا ہوا تھا۔ اہل یورپ کو تاریکی جہالت سے علم و عقل کی روشنی میں لانے والے مسلمان ہی تھے۔ (دیکھو صفحہ ۹۵ کتاب جان ڈیون پورٹ صاحب) ایسا ہی رائے بہادر ڈاکٹر چیتن شاہ صاحب آنریری سرجن اور ڈاکٹر دتّامل صاحب سول سرجن پنجاب ریویو جلد نہم میں لکھتے ہیں کہ اہل یورپ کو اس سے انکار نہیں ہوسکتا کہ تمام علوم فلسفۂ طب وغیرہ بذریعہ اہل عرب ان تک پہنچے ہیں۔ کمسٹری یعنے علم کیمیا بھی اہل یورپ نے عروج سلطنت اسلامیہ میں عربوں سے حاصل کیا ہے۔ اگرچہ ہندی طبابت نے (جو بزعم آریوں کے ویدوں سے لی گئی ہے) جو ہماری اپنی وطنی طبابت ہے یونانی اور انگریزی طبابت سے کوئی چیز عاریتاً نہیں لی۔ لیکن یہ اس کا مستعار نہ لینا اس کے فخر کا باعث نہیں ہوسکتا کیونکہ اس میں اسی قدر نقص اور خرابیاں