اس وقت مجھے ایک اور پنڈت صاحب بھی یاد آگئے جن کا نام کھڑک سنگھ ہے یہ صاحب ویدوں کی حمایت میں بحث کرنے کے لئے قادیان میں آئے اور قادیان کے آریوں نے بہت شور مچایا کہ ہمارا پنڈت ایسا عالم فاضل ہے کہ چاروں وید اسے کنٹھ ہیں۔ پھر جب بحث شروع ہوئی تو پنڈت صاحب کا ایسا برا حال ہوا کہ ناگفتہ بہ اور سب تعریفیں وید کی بھول گئے دنیا طلبی کی وجہ سے اسلام تو قبول نہ کیا مگر قادیان سے جاتے ہی وید کو سلام کرکے اصطباغ لے لیا اور اپنے لیکچر میں جو ریاض ہند اور چشمہ نور امرتسر میں انہوں نے چھپوایا ہے صاف صاف یہ عبارت لکھی کہ وید علوم الٰہی اور راستی سے بے نصیب ہیں اس لئے وہ خدا کا کلام نہیں ہوسکتے اور آریوں کا ویدوں کے علم اور فلسفہ اور قدامت کے بارے میں ایک باطل خیال ہے اس نازک بنیاد پر وہ حال اور ابد کے لئے اپنی امیدوں کی عمارت اٹھاتے ہیں اور اس ٹمٹماتی ہوئی روشنی کے ساتھ زندگی اور موت پر خوش ہیں۔
بالآخر اگر ہم ان سب واقف کاروں کی شہادت اور خود وید کی غلط فلاسفی سے قطع نظر کرکے قبول بھی کرلیں کہ اگرچہ وید دینی صداقتوں سے خالی ہیں اور بظاہر ان میں کوئی اور علوم و فنون بھی نہیں پائے جاتے مگر معماری و نجاری کے متعلق بعض علوم صنعت ان کی تہ کے اندر چھپے ہوئے ہیں تو اس سے اگر کچھ ثابت بھی ہو تو یہی ثابت ہوگا کہ وید کسی لوہار یا معمار کے پرانے خیالات ہیں۔
یہ جو بیان کیا جاتا ہے کہ جس قدر ہندوؤں کے ہاتھ میں علوم طبعی و طبابت و ہیئت وغیرہ ہیں یہ سب درحقیقت وید ہی سے نکلے ہیں یہ بیان