جو آنکھیں بند کرکے وید کی خاطر گھڑی گئی ہے۔ بھلا کوئی سوچے کہ پہلے جنم کی یادداشت کہاں ہے اور کس دلیل سے سمجھی گئی کیا یہ سچ نہیں کہ ہمیشہ دیکھا جاتا ہے اور روزمرہ کے تجارب اس پر شاہد ہیں کہ جن بچوں کو پیدا ہونے کے بعد بکری کے پستان پر لگایا جائے پھر وہ کسی عورت کےؔ پستان سے دودھ پینا نہیں چاہتے اور جن کو مثلاً انگریزی شیشی پر لگایا جائے ان کے لئے ماں کا یا بکری کا دودھ پینا ایسا مشکل کہ گویا موت ہے ہزار حیلہ کرو اس طرف رخ بھی نہیں کرتے۔ اب اگر دیانندی مسئلہ سچا ہوتا تو چاہیئے تھا کہ کوئی لڑکا بجز ماں کے پستان کے اور کسی طور سے دودھ نہ پیتا۔ سو نوزاد بچوں کی یہ مذکورہ بالا عادت ابطال تناسخ پر دلیل ہے نہ کہ ثبوت تناسخ پر کوئی دلیل اس سے پیدا ہوسکے۔ اب دعویٰ کی خوبی کا تو بیان ہوچکا۔ دیانندی دلیل کی بھی کیفیت سنیئے۔ وہ کہتے ہیں کہ ماں کا دودھ پینا یہ پہلے جنم کا خیال ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اگر ویدوں کی یہ دلیل سچی ہوتی تو پھر اصول تناسخ کا یہ چاہیئے تھا کہ ہریک جاندار کا بچہ اپنے پہلے جنم میں بھی اسی نوع میں سے ہوتا ہے جس میں اب پیدا ہوا ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ انسان کا بچہ پیدا ہونے کے بعد دودھ کا محتاج ہوتا ہے اور مرغ کا بچہ پیدائش کے بعد دانہ مانگتا ہے جونک کا بچہ مٹی کھاتا ہے اور شہد کی مکھی کا بچہ شہد سے خوراک پاتا ہے سو اگر یہ میل طبعی نہیں ہے بلکہ بقول دیانند پہلے جنم کا خیال بنا ہوا ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ انسان کا بچہ اپنے پہلے جنم میں ضرور انسان ہی ہو کچھ اور نہ ہو۔ ایسا ہی یہ بھی واجب ٹھہرتا ہے کہ مرغ کا بچہ