دراصل دعویٰ ہی فاسد ہے کیونکہ مشاہدہ کے رو سے فقط اتنا مسلم ہے کہ بچہ بہ سبب زندہ اور جاندار ہونے کے غذا کا طالب ہوتا ہے لیکن یہ ہرگز نہیں مانا جاسکتا کہ خواہ نخواہ ماں کے پستان ہی کی طرف دوڑے بلکہ بہ بداہت ثابت ہے کہ اس وقت وہ ایک سادہ نفس ہوتا ہے اور جس عادت پروہ لگا دیا جائے اسی پر لگ جاتا ہے اور اسی کو پختہ طور پر پکڑ لیتا ہے مثلاً اگر بچہ کوپیدا ہونے کے بعد بتی سے یا نلی سے دودھ پلانا شروع کردیں تو فی الفور اسی طرح سے پینا شروع کردیتا ہے پھر ممکن نہیں کہ بآسانی ماں کے پستان کی طرف رخ بھی کرے مگر شاید بڑی مشقت اور مصیبت کے بعد پہلی عادت کو چھوڑے اور دوسری عادت کو پکڑے۔ یہ تو سچ ہے کہ پیدا ہونے کے بعد غذا کی طرف بچہ کی خواہش جنبش کرتی ہے مگر وہ خواہش فقط درد اشتہا سے پیدا ہوتی ہے نہ کسی اور سبب سے اور تجارب روزمرہ صاف اور صریح شہادت دیتے ہیں کہ انسان یا حیوان یا کسی پرند یا کسی کیڑے مکوڑے کا پیدا ہونے کے بعد اپنی غذا کی طرف توجہ کرنا حقیقت میں ایک میل طبعی ہے جو حکیم مطلق نے اپنی ؔ حکمت کاملہ کی وجہ سے ہر ایک جاندار میں بلکہ نباتات و جمادات کی فطرت میں بھی رکھی ہوئی ہے تا وہ بالطبع اپنی اُس غذا کے طالب ہوں جو ان کے مناسب حال ہے۔ اسی وجہ سے ہریک چیز اپنے اپنے طور پر جو اس کے وجود کی بناوٹ میں مقرر کیا گیا ہے تحصیل غذا کے لئے میل کرتی ہے اور جیسے ایک بچہ انسان یا حیوان کا غذا کو حاصل کرنا چاہتا ہے ایسا ہی درختوں اور بوٹیوں کی جڑھیں بھی تخمی حالت سے آگے قدم رکھتی ہیں اور