حقیقتوں سے ُ پر ہے اور جو کچھ صانع نے جس جس جگہ رکھا ہے نہایت ہی موزوں اور جواہرات حکمت و معقولیت سے بھرا ہوا ہے مگر ان کور باطنوں کی نظر میں یہ سب کچھ صرف گزشتہ جنموں کے نتائج کا ایک گڑبڑ ہے اور اس سے زیادہ کچھ نہیں اور پرمیشر ایسا لاحاصل اور بے کار اور ایک فضول اور بے نفع وجود ہے کہ نہ تو کبھی رحم اور فضل اور کرم اس سے ظہور میں آیا اور نہ کبھی اس کو اپنی حکمت و قدرت دکھلانے کا موقع ملا اور نہ کبھی اس نے اپنے وجود میں طاقت پائی کہ اپنی خدائی کے نشان ظاہر کرے۔ عقل تو پکار پکار کر کہتی ہے کہ یہ سب چیزیں خدائے تعالیٰ کے ملنے کا ہمارے لئے راہ بتانے والیں اور اس کے احسانات کا ایک رشتہ قائم کرنے والی ہیں مگر ان کا وید کہتا ہے کہ کچھ بھی نہیں یہ سب کچھ اتفاقی ہے جو گزشتہ جنموں کی شامت سے ظہور پذیر ہورہا ہے ورنہ ایک قطرہ پانی کا بھی جس میں صدہا کیڑے ہیں پرمیشر کی طرف سے عطا نہیں ہوا بلکہ خود ان کیڑوں کی کسی پہلے زمانہ کی اپنی ہی بداعمالی پانی کے وجود اور ہماری آب نوشی کا باعث ہوگئی ہے۔ اب جن کے پرمیشر کا یہ حال ہے کہ ایک قطرہ پانی پر بھی اختیار نہیں کہ خودبخود پیدا کرسکے تو کیا ایسے ضعیف اور ناتواں کا نام پرمیشر رکھنا جائے عارہے یا نہیں اور ایسا بدنصیب پرمیشر کس تعریف اور شکر گزاری یا کس مدح و ثنا کے لائق ہوگا۔ جس کی ملکیت ایک بوند پانی بھی نہیں۔ ہائے افسوس ان لوگوں نے الٰہی قدرتوں اور حکمتوں اور صنعتوں کو اواگون اور وید کی محبت میں پھنس کر کیسا خاک میں ملا دیا ہے۔ صرف ایک تناسخ کے بیہودہ خیال سے ہزارہا صداقتوں کا خون کرتے جاتے ہیں اور فلسفی اور