پرمیشر کو ایک بنیا قرار دیا جائے جو اُس جنس کو داموں کے موافق بیچتا ہے یا یہ خیال کیا جائے کہ پرمیشر کا مکتی خانہ کرایہ پر چلتا ہے۔ جتنے دنوں کا کرایہ دیا اتنے دن رہے اور پھر نکالے گئے۔ اب ہم آریوں کے بڑے دستار بندوں سے دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ کیا مکتی کی حقیقت میں یہی فلاسفی ہے جس کو آپ کا وید مقدس سکھا رہا ہے کیا وید کا یہی علم وہنر ہے جس پر ناز کیا جاتا ہے سب دانشمند جانتے ہیں کہ نجات کی جڑھ اور اس کا اصل نور جس سے یہ روشنی پیدا ہوتی ہے یہی ہے کہ ماسوا اللہ سے انقطاع کلی ہوکر خدا تعالیٰ سے ایسا سچا تعلق پیدا ہوجائے کہ وہ محبت اور عشق کے غلبہ سے ہریک چیز پر بلکہ اپنی جان پر بھی مقدم ہوجائے اور آرام اور انس اور شوق اور دل کی خوشی اُسی سے اور اُسی کے ساتھ ہو اور جیسا کہ وہ حقیقت میں واحد لاشریک ہے ؔ ایسا ہی پیار کی نظر سے بھی اپنی عظمت اور جلال اور ساری کامل صفتوں میں واحد لاشریک ہی نظر آوے یہ نور نجات ہے جو اسی دنیا سے محب صادق کے ساتھ جاتا ہے اور اس کے وجود میں جان کی طرح داخل ہو کر ہمیشہ اس کے ساتھ رہتا ہے سو جب کہ شخص نجات یافتہ ہمیشہ کے لئے یہ علت موجبہ نجات اپنے ساتھ رکھتا ہے تو پھر یہ وید کی کس قسم کی عقلمندی ہے کہ باوجود موجودیت علت تامہ کے یعنے نور نجات کے معلول تخلف یعنے نجات کا اس سے روا رکھتا ہے کیا کوئی آریہ اپنے ویدوں کی اس عجیب فلاسفی کو ہمیں سمجھا سکتا ہے۔
اور پھر ثبوت تناسخ پر دلیل بھی کیا ہی عمدہ ستیارتھ پرکاش میں لکھی گئی