کوئی کیا کہے۔ بھلا جس حالت میں جابجا فریق مخالف کے انکار پر اس کی مسلم الثبوت کتابوں کا فصل و صفحہ تک پتہ بتلا دیا گیا تو کیا ابھی ہم نے کتاب کا حوالہ نہ دیا۔ دیکھو صفحہ (۷۳) سرمہ چشم آریہ۔ ہاں جن باتوں کو لالہ مرلی دھر صاحب اس بالموا جہ بحث میں آپ ہی مانتے گئے۔ ان کا حوالہ دینا داب مناظرہ کے خلاف اور ناحق کا طول تھا اگر وہ انکار کرتے تو حوالہ بھی سن لیتے۔ مگر تاہم اجمالی طور پر ہر جگہ کہا گیا کہ یہ تمہارے عقائد و اصول ہیں۔ چنانچہ جابجا لالہ صاحب موصوف ان الزامات کا اقرار کرتے گئے اور کچھ بھی چوں چرا نہ کیا۔ دیکھو صفحہ ۱۱۴۔ ۱۷۹۔ ۱۹۴۔ ۲۰۴۔ ۲۰۶ سرمہ چشم آریہ۔ ماسوا اس کے یہ بات یاد رہے کہ ہم نے جس قدر آریوں پر رسالہ سرمہ چشم آریہ میں اعتراضات کئے ہیں ان سب کو ہم نے ان کے لائق گرو دیانند کی ستیارتھ پرکاش سے اخذ کیا ہے تم ذرا منہ سے تو یہ بات نکال کر دیکھو کہ ہم آریوں کے وہ عقائد نہیں ہیں پھر دیکھنا کہ کیسی خبر لی جاتی ہے غضب کی ہٹ دھرمی ہے کہ جن عقائد اور اصولوں کو آپ ہی ہرکوچہ و بازار میں مشہور کرچکے ہیں اب ان سے اِدھر اُدھر بھاگنا چاہتے ہیں مگر پھنسی ہوئی چڑیا اب بھاگے کہاں۔ اب تو دیانند کی جان کو رونا چاہئے جو تمہیں پھنسا کر آپ الگ ہوگیا اور وید کا آخری نچوڑ یہ چھوڑ گیا کہ جیسے پرمیشر خود بخود ویسا ہی دنیا کا ذرّہ ذرّہ خودبخود۔
قولہ۔ تمام جہان میں جو علم و ہنر ظاہر ہورہا ہے سب وید اقدس کی بدولت ہے۔
اقول۔ ویدوں کے علوم و فنون کی حقیقت تو بہت سی کھل گئی اور کھلتی جاتی ہے۔ بھلا جن ویدوں نے اس رنگا رنگ کی مخلوقات کے وجود میں اپنی فلاسفی یہ بتلائی کہ یہ سب چیزیں اور سب روحیں یہاں تک کہ ذرہ ذرہ عالم کا اپنے وجود کا آپ ہی ربّ ہے کوئی ان کا موجد و پیدا کنندہ و حقیقی سہارا نہیں ضرور ان میں اور علوم و فنون بھی ہوں گے ایسے لائق ویدوں کا وجود کب بے ہنر و علم رہ سکتا ہے اگرچہ ویدوں کی عجیب حکمت پر خود ذاتی طور پر ہمیں بہت سی اطلاع ہے لیکن آریوں کے لائق پنڈت دیانند نے جو ستیارتھ پرکاش میں ویدک فلاسفی کا کچھ