حصر کے لفظ موجود ہیں جو اسی حمل میں وہ لڑکا پیدا ہوگا اُس سے ہرگز ہرگز تخلف نہیں کرے گا ضرور اس میں پیدا ہوجائے گا وہی اشتہار ایک جلسہ منعقد کرکے بحاضری چند مسلمانوں اور ہندوؤں اور عیسائیوں کے پیش کردینا چاہیئے تا دروغگو کی سیاہ روئی سب پر کھل جائے لیکن اگر اشتہار کے پیش ہونے کے بعد اشتہار کی عبارت سے یہی بات بہ بداہت ثابت ہوتی ہو کہ شاید وہ لڑکا اب ہو یا بعد میں ہو تو پھر ایسے بے شرم دروغگو کے لئے کہ جو برخلاف ہماری تشریح مندرجہ اشتہار کے ناحق بار بار خلق اللہ کو دھوکا دے صرف *** اللہ علیہ کہنا کافی نہیں۔ بلکہ اس کو کسی قدر سزا دینا بھی ضروری ہے تا پھر آئندہ اپنی بے حیائی دکھلانے کے لئے جرأت نہ کرے۔ قولہ۔ ایک ڈوم ٹکڑہ خوری گمنام نے مرزا کی تعریف میں دو ورق کا اشتہار بعنوان رسالہ سرمہ چشم آریہ سیاہ کیا ہے محض دنیاوی طمع میں اندھا ہورہا ہے۔ اس کوتاہ اندیش نامعقول پر کیا بلاپڑی کہ مفت میں جھوٹ بول رہا ہے۔ اقوؔ ل۔ یہ پاک سیرت راقم رسالہ جو شاید اپنے گمان میں اپنے تئیں کسی راجہ کا بیٹا سمجھتا ہوگا۔ ہم اس کو ہرگز ڈوم یا ڈوم کی ذریت نہیں کہیں گے۔ خدا جانے یہ کون ہے اور کس کا ہے مگر یہ یاد رہے کہ یہ شخص اپنے ان گندے الفاظ سے جو کسی قدر ابھی ہم نے لکھے ہیں اور کسی قدر خلاف تہذیب اور سخت مکروہ دیکھ کر چھوڑ دیئے ہیں ایک نہایت عالی خاندان سید صاحب کی نسبت جو بڑے شریف اور ایک شہر کے معزز اور نامور رئیس ہیں ازالہ حیثیت عرفی کا مرتکب ہورہا ہے اور خدائے تعالیٰ کا خوف اسے کاہے کو ہوگا۔ مگر دفعہ ۵۰۰ تعزیرات ہند اور کئی ایسے