قولہ ۔ جان محمد امام مسجد قادیان کو مرزا نے کہا کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ تم اپنے لڑکے
کی قبر کھودو یعنے اب وہ مرے گا حالانکہ وہ نہیں مرا۔
اقول ۔ اس افترا کا جواب یہی کافی ہے کہ *** اللّٰہ علی الکاذبین۔ اور اگر اور بھی کچھ ثبوت چاہو تو یہاں جان محمد صاحب کی دستخطی تحریر حاشیہ میں موجود ہے۔* اس کو ذرا آنکھ کھول کر پڑھ لو اور دروغ بے فروغ کی ندامتوں کا کچھ مزہ اٹھاؤ اور اگر کچھ شرم حیا ہے تو قادیان میں ایک جلسہ کرکے اس ہندو کو ہمارے سامنے کرو جس نے یہ بے بنیاد قصہ لکھ کر بھیجا ہے کیونکہ اس قدر افترا محض کا تصفیہ بالمواجہ خوب ہوجائے گا۔ اور ہم اسی جلسہ عام میں اس ہندو کو کوئی ایسی قسم دیں گے جو اس پر مؤثر ہوسکے اور اس طرح پر جو جھوٹا ہو اس کی قلعی کھل جائے گی۔ لیکن صرف بیہودہ تحریروں سے اس مفتری ہندو کا نام لینا کافی نہ ہوگا کیونکہ یہ تجربہ ہوچکا ہے کہ اس جگہ کے ہندوؤں پر جو تحریروں کے ذریعہ سے الزام لگایا جاتا ہے پیچھے سے وہ کانوں پر ہاتھ دھرتے ہیں کہ ہمیں اس کی خبر بھی نہیں چنانچہ نظیر میں وہ اشتہار کافی ہے جس میں لکھا تھا کہ گویا لالہ شرم پت کہتا ہے کہ میں مرزا کے دعویٰ الہامات کو سراسر مکر و فریب سمجھتا ہوں اور میں ان کے کسی الہام اور پیشگوئی
یہؔ بہتان کہ گویا مرزا صاحب نے یہ کہا کہ درحقیقت تمہارے لڑکے کے لئے مجھے الہام ہوا کہ تم اس کی قبر کھودو سراسر افترا ہے جس کی کچھ بھی اصلیت نہیں اور میں جانتا ہوں کہ یہ ان نااہل لوگوں کی گھڑت ہے کہ جو نہ خدا کی *** اور نہ خلقت کی *** سے ڈرتے ہیں۔ کیا خوب ہو کہ ایک جلسہ ہوکر ایسا شخص میرے روبرو کیا جائے تا میں بھی اس کو بٹھا کر پوچھ لوں کہ اے بھلے مانس کب تیرے روبرو مرزا صاحب نے ایسا الہام مجھ کو سنایا تھا۔
العبد خاکسار جان محمد امام مسجد قادیان