اور کسی تدبیر سے ہماری دسترس ممکن ہی نہیں۔ کیا تمہیں دیانند کی کتابوں اور ان کے زبانی لکچروں اور ان کے تحریری مباحثہ پر بھی اعتبار نہیں۔ کیا وہ لوگ بالکل جھوٹے ہی ہیں جنہوں نے صدہا روپیہ سرکار انگریزی سے ویدوں کا اردو انگریزی ترجمہ کرنے میں پایا ہے۔ پھر جب واقفیت حاصل کرنے کے لئے اس قدر سامان اور کتابیں ہمارے پاس موجود ہیں اور وید اور ویدوں کے بھاش اور دیانندی ستیارتھ پرکاش وغیرہ کتابیں ہماری المارؔ یوں میں رکھی پڑی ہیں۔ اور زبانی مناظرات میں بھی ہماری عمر گذر گئی ہے تو کیا اب تک ہم آپ لوگوں کے گھر سے ناواقف ہیں۔ پھر جب اس قدر ہمارے وسیع معلومات ہیں تو ایک سنسکرت اگر نہیں تو نہیں سہی اور خود باوجود اس درجہ کے وسعت معلومات کے جو سالہا سال کا ذخیرہ ہے اس کاگ بھاشا کی ضرورت ہی کیا ہے۔
قولہ۔ مرزا کوڑی کوڑی سے لاچار اور قرضدار ہے۔
اقول۔ اس جگہ ہمیں حیرت ہے کہ لالہ صاحبوں کو ہمارے قرض کی کیوں فکر پڑگئی۔ اگر وہ سرمہ چشم آریہ کا رد لکھ کر دکھلاتے اور پھر منشی جیون داس صاحب اس رد کی صحت و کمالیت پر قسم کھانے کو تیار ہوجاتے۔ تب اگر ہم اس جلسۂ قسم میں حسب وعدہ خود پانسو 3روپیہ نقد پیش کرنے سے عاجز رہ جاتے تو ایسے اعتراضوں کا محل بھی ہوتا۔ مگر اب تو ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ ہماری حیثیت خانگی کے بارے میں اس راقم دزدمنش کو جس نے ہمارے مقابل پر کبھی اپنا نام بھی ظاہر نہیں کیا کیوں اتنے تفکرات پیدا ہوگئے یہاں تک کہ بندوبست کے کھیوٹ میں ہماری زمین تلاش کرتا پھرتا ہے اور اپنی بدقسمتی سے اس تلاش میں بھی غلطی پر غلطی کھاتا ہے اور سراسر