لیکن تاہم عام لوگوں پر ثابت کر دکھانا ہمارا فرض ہے کہ وید صرف اس زمانہ کے موٹے اور پست خیالات ہیں کہ جب آریوں میں ہنوز مخلوق اور خالق میں تمیز کرنے کا مادہ پیدا نہیں ہوا تھا اور عناصر اور اجرام سماوی کو خدائے تعالیٰ کی جگہ دی گئی تھی۔ چنانچہ رگوید کے شاعروں کے وہ سب پرجوش شعر جن میں اندرواگنی وغیرہ سے بہت سی گوئیں اور گھوڑے اور لوٹ کا مال مانگا گیا اس بیان پر شاہد ہیں برخلاف اس کے قرآن شریف ایسا علوم و معارف و کمالات ظاہری و باطنی پر حاوی ہے کہ صریح حد بشریت سے بڑھا ہوا ہے اور بہ بداہت معلوم ہوتا ہے کہ جس قدر اس نے حقائق و دقائق کو ایک بے مثل بلاغت و فصاحت میں بیان کیا ہے اور پھر بالتزام ایسے بلیغ و فصیح بیان کے تمام دینی صداقتوں پر ایک دائرہ کی طرح محیط ہوگیا ہے حقیقت میں یہ ایسا کام ہے جس کو معجزہ کہنا چاہئے کیونکہ یہ انسانی طاقتوں سے ماورا اور بشری قوتوں سے بالاتر ہے۔ بالآخر ہم یہ بھی مناسب سمجھتے ہیں کہ آریہ صاحبوں کے نوجوان صاحبزادوں نے جس قدر ہمارے اور ہمارے دوستوں کے سوشیل امور اور اسلامی فضائل و قرآنی حقائق میں اپنی عادت کے موافق بے اصل اور بیہودہ نکتہ چینیاں کی ہیں ان کا الگ الگ جواب برعایت اختصار ذیل میں دیا جائے سو وہ یہ ہے۔ قولہ۔ مرزا ہماری کتب مذہب سے محض بے بہرہ ہے۔ اقول ۔ میں کہتا ہوں کہ اگر یہی حال ہے تو ایسے بے بہرہ محض کے آگے کیوں تم ایک دم کے لئے بھی نہیں ٹھہرسکتے اور اس چڑیا کی طرح جو باز سے ڈر کر چوہے کے سوراخ میں گھس جاتی ہے کیوںؔ اِدھر اُدھر چھپتے اور بھاگتے پھرتے ہو اس کی کیا وجہ ہے۔ کیا سرمہ چشم آریہ نے آپ کے مذہب کا کچھ باقی بھی چھوڑا؟ کیا ٹھیک ٹھیک گت