میں ڈوبا ہوا ہو وہ قرآن شریف پر اعتراض کریں۔ کیا یہ افسوس کا مقام ہے یا نہیں۔ ہمیں ان کی سخت کلامی کا تو کچھ بھی رنج نہیں اور نہ کرنا چاہیئے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ اگر کسی پر دس 3روپیہ کی ڈگری بھی کسیؔ عدالت سے ہوجاتی ہے تو وہ اپنی بد باطنی سے اپنے گھر تک اس حاکم کو برا بھلا کہتا چلا آتا ہے پس جبکہ ادنیٰ خلاف طبع بات پر جاہلوں کے جوش کا یہ حال ہے تو پھر ہم جو ان کی بدمذہبی کی بیخ کنی کررہے ہیں ہم کو اگر برا نہ کہیں تو اور کس کو کہیں اور نیز جبکہ انہوں نے اپنے مشہور بزرگوں راجہ رام چندر صاحب اور را جہ سری کرشن صاحب کو جو سرآمد بزرگان ہنود ہیں۔ جن کی شہرت کے آگے وید کے رشیوں کا کچھ بھی وجود اور نمود نہیں علانیہ برا بلکہ آریہ گزٹ ۱۸۸۶ ء میں جس کا ثبوت ہم رکھتے ہیں کتنے بیتوں میں گندی گالیاں دیں۔ اور ایسا ہی دیانند نے اپنی ستیارتھ پرکاش میں صفحہ ۳۵۶ میں باوا نانک صاحب کا نام فریبی اور مکار رکھا۔* تو پھر ایسے لوگوں پر ہمیں کچھ بھی افسوس نہیں کرنا چاہیئے۔ وجہ یہ کہ جب کہ یہ لوگ جن میں سے بعض نے بڑے بڑے کیس بھی سر پر رکھ چھوڑے ہیں اور کشن سنگھ اور بشن سنگھ و نرائن سنگھ نام رکھ لیا ہے خود اپنے گورو کو ہی یہ انعام دیتے ہیں تو پھر دوسری جگہوں میں یہ کب چوکنے والی آسامی ہیں۔ جنہوں نے چیلا ہوکر اپنے پرانے پیشواؤں کو یہ خلعت دی کہ وہ ٹھگ اور فریبی ہیں تو وہ دوسروں سے کس صاف باطنی سے پیش آئیں گے اور جبکہ اپنے مرشد کی ہی پگڑی اتارنے لگے تو غیروں
اس بے ادبی کا ذکر پرچہ دھرم جیون ۶؍ مارچ ۱۸۸۷ ء میں بھی موجود ہے کہ ستیارتھ پرکاش میں بڑے لائق دیانند جی نے باوا نانک صاحب کو مکار کہا ہے۔ منہ۔