قرآن کا یہ حال ہے تو پھر اس میں علم کیا ہو فقط۔ یہ پاکیزہ الفاظ ہیں جن میں سے ہم نے کچھ کم درجہ کے سنگین لفظ چھانٹ کر خلاصہ کے طور پر اس جگہ درج کئے ہیں لیکن ہم اس بچوں کی سی سمجھ اور سادہ لوحی پر جو بہت سے غصہ اور اشتعال کے ساتھ ملا کر ظاہر کی گئی ہے ہنسیں یا روویں حقیقت میں ہندو لوگ دنیا کے کمانے میں گو کیسے ہی چتر اور ہوشیار ہوں مگر دین کے بارے میں بہت ہی ابلہ اور بے مغز ہیں اور اس کے ساتھ خیانت کی بھی وہی عادت چلی آتی ہے جیسے لون مرچ کے بیچنے اور تولنے میں بچپن سے رکھتے ہیں۔ ناحق نادانی اور بے سمجھی کی راہ سے آپ ہی ایک بات کہہ کر دانشمندوں پر ثابت کرادیتے ہیں کہ کس قدر دماغ ان کا علمی روشنی سے بھرا ہوا ہے اور کس قدر معلومات ان کے وسیع ہیں واہ واہ کیا خوب سمجھ ہے اسی سمجھ پر تو یہ ٹھٹھا کرانے والا اعتراض پیش کردیا کہ قرآن خدائے تعالیٰ کو جسم اور جسمانی قرار دیتا ہے اور اس میں کوئی آیت تنزیہ کی نہیں۔ کاش ان حضرات نے قرآن شریف کا ایک ورق ہی کسی سے پڑھ لیا ہوتا پھر اعتراض کیلئے پیش قدمی کرتے۔ بھلا جوؔ شخص ایک حرف بھی قرآن شریف کا صحیح طور پر نہیں پڑھ سکتا اور نہ کسی اسلامی کتاب میں کوئی ایسا اقرار اس نے دیکھا ہے جس پر اعتراض جم سکے تو کیا ایسے شخص کو یہ منصب پہنچتا ہے جو یونہی اعتراض کیلئے دس گز کی زبان نکالے۔ ہم وعدہ کرتے ہیں کہ رسالہ قرآنی طاقتوں کے جلوہ گاہ میں پہلے اسی بحث کو چھیڑیں گے کہ خدائے تعالیٰ کی پاک اور کامل صفتیں اور اس کی خدائی کی خاصیتیں اور قدرتیں (جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ جسم اور جسمانی ہونے سے منزہ ہے) کس کتاب میں صحیح اور کامل طور پر پائی جاتی ہیں آیا وید میں یا قرآن میں۔ اور پھر