سادہ لوح لوگوں کو سناتے ہیں اور نیز اپنی طرف سے اشتہارات شائع کرتے ہیں تا دھوکا دے کر ان کے یہ ذہن نشین کریں کہ جو لڑکا پیدا ہونے کی پیشگوئی تھی اس کا وقت گزر گیا اور وہ غلط نکلی۔ ہم اس کے جواب میں صرف *** اللہ علی الکاذبین کہنا کافی سمجھتے ہیں لیکن ساتھ ہی ہم افسوس بھی کرتے ہیں کہ ان بے عزتوں اور دیوثوں کو بباعث سخت درجہ کے کینہ اور بخل اور تعصب کے اب کسی کی *** ملامت کا بھی کچھ خوف اور اندیشہ نہیں رہا اور جو شرم اور حیا اور خدا ترسی لازمہ انسانیت ہے وہ سب نیک خصلتیں ایسی ان کی سرشت سے اٹھ گئی ہیں کہ گویا خدائے تعالیٰ نے ان میں وہ پیدا ہی نہیں کیں اور جیسے ایک بیمار اپنی صحت یابی سے نوامید ہوکر اور صرف چند روز زندگی سمجھ کر سب پرہیزیں توڑ دیتا ہے اور جو چاہتا ہے کھاپی لیتا ہے اسی طرح انہوں نے بھی اپنی مرض کینہ اور تعصب اور دشمنی کو ایک آزار لاعلاج خیال کرکے دل کھول کر بدپرہیزیاں اور بے راہیاں شروع کی ہیں جن کا انجام بخیر نہیں۔ تعصب اور کینہ کے سخت جنون نے کیسی ان کی عقل مار دی ہے نہیں دیکھتے کہ اشتہار ۲۲؍ مارچ ۱۸۸۶ ؁ء میں صاف صاف تولّدِ فرزند موصوف کے لئے نو برس کی میعاد لکھی گئی ہے اور اشتہار ۸؍ اپریل ۱۸۸۶ ؁ء میں کسی برس یا مہینے کا ذکر نہیں اور نہ اس میں یہ ذکر ہے جو نو برس کی میعاد رکھی گئی تھی اب وہ منسوخ ہوگئی ہے ہاں اس اشتہار میں ایک یہ فقرہ ذوالوجوہ درج ہے کہ مدتِ حمل سے تجاوز نہیں کرسکتا۔ مگر کیا اسی قدر فقرہ سے یہ ثابت ہوگیا کہ مدتِ حمل سے ایام باقی ماندہ حمل موجودہ مراد ہیں کوئی اور مدت مراد نہیں اگر اس فقرہ کے سرپر اس کا لفظ ہوتا تو بھی اعتراض کرنے کے لئے کچھ گنجائش نکل سکتی مگر جب الہامی عبارت کے سر پر اس کا لفظ (جو مخصص وقت ہوسکتا ہے) وارد نہیں تو پھر خواہ نخواہ اس فقرہ سے وہ معنی نکالنا جو اس صورت میں نکالے جاتے جو اس کا لفظ فقرہ مذکور کے سر پر ہوتا اگر بے ایمانی اور بددیانتی نہیں تو اور کیا ہے۔ دانشمند آدمی جس کی عقل اور فہم میں کچھ آفت نہیں اور جس کے دل پر کسی تعصب یا شرارت کا حجاب نہیں وہ سمجھ سکتا ہے کہ کسی ذوالوجوہ فقرہ کے معنی کرنے کے وقت وہ سب احتمالات مدّنظر رکھنی چاہیئے جو اس فقرہ سے پیدا ہوسکتے ہیں۔ سو فقرۂ مذکورہ بالا یعنی یہ کہ مدتؔ حمل سے تجاوز نہیں کرسکتا۔ ایک ذوالوجوہ فقرہ ہے جس کی ٹھیک ٹھیک وہی تشریح ہے جو میر عباس علی شاہ