اس عاجز کو نسبت دی ہے اور ایک جگہ پر جہاں اس عاجز نے ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ ؁ء کے اشتہار میں یہ پیشگوئی خدائے تعالیٰ کی طرف سے بیان کی تھی کہ اس نے مجھے بشارت دی ہے کہ بعض بابرکت عورتیں اس اشتہار کے بعد بھی تیرے نکاح میں آئیں گی اور ان سے اولاد پیدا ہوگی اس پیشگوئی پر منشی صاحب فرماتے ہیں کہ الہام کئی قسم کا ہوتا ہے نیکوں کو نیک باتوں کا اور زانیوں کو عورتوں کا۔ ہم اس جگہ کچھ لکھنا نہیں چاہتے ناظرین منشی صاحب کی تہذیب کا آپ اندازہ کرلیں۔ پھر ایک اور صاحب ملازم دفتر ایگریمر صاحب ریلوے لاہور کے جو اپنا نام نبی بخش ظاہر کرتے ہیں اپنے خط مرسلہ ۱۳؍ جون ۱۸۸۶ ؁ء میں اس عاجز کو لکھتے ہیں کہ تمہاری پیشگوئی جھوٹی نکلی اور دختر پیدا ہوئی اور تم حقیقت میں بڑے فریبی اور مکار اور دروغگو آدمی ہو۔ ہم اس کے جواب میں بجز اس کے کیا کہہ سکتے ہیں کہ اے خدائے قادر مطلق یہ لوگ اندھے ہیں۔ ان کو آنکھیں بخش یہ نادان ہیں ان کو سمجھ عطا کر یہ شرارتوں سے بھرے ہوئے ہیں ان کو نیکی کی توفیق دے۔ بھلا کوئی اس بزرگ سے پوچھے کہ وہ فقرہ یا لفظ کہاں ہے جو کسی اشتہار میں اس عاجز کے قلم سے نکلا ہے جس کا یہ مطلب ہے کہ لڑکا اسی حمل میں پیدا ہوگا اس سے ہرگز تخلف نہیں کرے گا۔ اگر میں نے کسی جگہ ایسا لکھا ہے تو میاں نبی بخش صاحب پر واجب ہے کہ اس کو کسی اخبار میں چھپادیں۔اس عاجز کے اشتہارات پر اگر کوئی منصف آنکھ کھول کر نظر ڈالے تو اسے معلوم ہوگا کہ ان میں کوئی بھی ایسی پیشگوئی درج نہیں جس میں ایک ذرہ غلطی کی بھی گرفت ہوسکے بلکہ وہ سب سچی ہیں اور عنقریب اپنے وقت پر ظہور پکڑ کر مخالفین کی ذلت اور رسوائی کا موجب ہوں گی۔ دیکھو ہم نے ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ ؁ء میں جو یہ پیشگوئی اجمالی طور پر لکھی تھی کہ ایک امیر نووارد پنجابی الاصل کو کچھ ابتلا درپیش ہے کیسی وہ سچی نکلی۔ ہم نے صدہا ہندوؤں اور مسلمانوں کو مختلف شہروں میں بتلا دیا تھا کہ اس شخص پنجابی الاصل سے مراد دلیپ سنگھ ہے جس کی پنجاب میں آنے کی خبر مشہور ہورہی ہے لیکن اس ارادہ سکونت پنجاب میں وہ ناکام رہے گا بلکہ اس سفر میں اس کی عزت و آسائش یا جان کا خطرہ ہے اور یہ پیشگوئی ایسے وقت میں لکھی گئی اور عام طور پر بتلائی گئی تھی یعنی ۲؍ فروری ۱۸۸۶ ؁ء کو جبکہ اس ابتلا کا کوئی اثر و نشان ظاہر نہ تھا۔ بالآخر اس کو مطابق اسی پیشگوئی کے بہت حرج اور تکلیف اور سُبکی اور خجالت اٹھانی پڑی اور اپنے مدعا سے محروم رہا سو دیکھو اس پیشگوئی کی صداقت کیسی کھل گئی اسی طرح سے اپنے اپنے وقت پر سب پیشگوئیوں کی سچائی ظاہر ہوگی اور دشمن روسیاہ نہ ایک دفعہ بلکہ کئی دفعہ رسوا ہوں گے۔ یہ خدائے تعالیٰ کا فعل ہے جو ابھی تک انہیں اندھا کررکھا ہے ان کے دلوں کو سخت کردیا اور ہمارے دل میں درد اور خیر خواہی کا طوفان مچا دیا سو اس مشکل کے حل کے لئے اسی کی جناب میں تضرع کرتے ہیں۔ اے خدا نور دہ ایں تیرہ درد نانے را۔یامدہ درد دگر ہیچ خدادا نے را۔ والسلام علی من اتبع الہدی۔ المشتھر خاکسار غلام احمد مؤلف براہین احمدیہ از قادیان ضلع گورداسپور پنجاب