لیکنؔ اگر فریق مخالف انجام کار جھوٹا نکلا اور وہ تمام خوبیاں جو ہم اپنے ان اصولوں یا تعلیموں میں ثابت کرکے دکھلا دیں بمقابل ان کے وہ اپنے اصولوں میں ثابت نہ کرسکا تو پھر یاد رکھنا چاہیئے کہ اسے بلاتوقف مسلمان ہونا پڑے گا اور اسلام لانے کے لئے اول حلف اٹھا کر اسی عہد کا اقرار کرنا ہوگا اور پھر بعد میں ہم اس کے اعتراضات کا جواب ایک رسالہ مستقلہ میں شائع کرادیں گے۔ اور جو اس کے بالمقابل اصولوں پر ہماری طرف سے حملہ ہوگا اس حملہ کی مدافعت میں اس پر لازم ہوگا کہ وہ بھی ایک مستقل رسالہ شائع کرے اور پھر دونوں رسالوں کے چھپنے کے بعد کسی ثالث کی رائے پر یا خود فریق مخالف کے حلف اٹھانے پر فیصلہ ہوگا جس طرح وہ راضی ہوجائے لیکن شرط یہ ہے کہ فرق مخالف نامی علماء میں سے ہو اور اپنے مذہب کی کتاب میں مادہ علمی بھی رکھتا ہو اور بمقابل ہمارے حوالہ اور بیان کے اپنا بیان بھی بحوالہ اپنی کتاب کے تحریر کرسکتا ہو۔ تاناحق ہمارے اوقات کو ضائع نہ کرے۔ اور اگر اب بھی کوئی نامنصف ہمارے اس صاف صاف منصفانہ طریق سے گریز اور کنارہ کرجائے اور بدگوئی اور دشنام دہی اور توہین اسلام سے بھی باز نہ آوے تو اس سے صاف ظاہر ہوگا کہ وہ کسی حالت میں اس *** کے طوق کو اپنے گلے سے اتارنا نہیں چاہتا کہ جو خدائے تعالیٰ کی عدالت اور انصاف نے جھوٹوں اور بے ایمانوں اور بدزبانوں اور بخیلوں اور متعصبوں کے گردن کا ہار کررکھا ہے۔ وَالسَّلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی۔
بالآخر واضح رہے کہ اس اشتہار کے جواب میں ۲۰؍ ستمبر ۱۸۸۶ ء سے تین ماہ تک کسی پنڈت یا پادری جواب دہندہ کا انتظار کیا جائے گا اور اگر اس عرصہ میں علماء آریہ وغیرہ خاموش رہے تو انہیں کی خاموشی ان پر حجت ہوگی۔
المشتھر
خاکسار غلام احمد مؤلف رسالہ سرمہ چشم آریہ