پھرؔ دیکھنا چاہیئے کہ ان کا جوش و خروش کہاں ہے۔ ماسوا اس کے ان لوگوں کی ذاتی علمیت اور دماغی روشنی بھی بہت کم ہوتی ہے اور یورپ کے ملکوں میں جو واقعی دانا اور فلاسفر اور دقیق النظر ہیں وہ پادری کہلانے سے کراہت اور عار رکھتے ہیں اور ان کو ان کے بیہودہ خیالات پر اعتقاد بھی نہیں بلکہ یورپ کے عالی دماغ حکما کی نگاہوں میں پادری کا لفظ ایسا خفیف اور دوراز فضیلت سمجھا جاتا ہے کہ گویا اس لفظ سے یہ مفہوم لازم پڑا ہوا ہے کہ جب کسی کو پادری کرکے پکارا جاوے تو ساتھ ہی دل میں یہ بھی گزر جاتا ہے کہ یہ شخص اعلیٰ درجہ کی علمی تحصیلوں اور لیاقتوں اور باریک خیالات سے بے نصیب ہے اور جس قدر ان پادری صاحبان نے اہل اسلام پر مختلف قسم کے اعتراضات کرکے اور بار بار ٹھوکریں کھا کر اپنے خیالات میں پلٹے کھائے ہیں اور طرح طرح کی ندامتیں اٹھا کر پھر اپنے اقوال سے رجوع کیا ہے۔ یہ بات اس شخص کو بخوبی معلوم ہوگی کہ جو ان کے اور فضلاء اسلام کے باہمی مباحثات کی کتابوں پر ایک محیط نظر ڈالے۔ ان کے اعتراضات تین قسم سے باہر نہیں۔ یا تو ایسے ہیں کہ جو سراسر افترا اور بہتان ہے جن کی اصلیت کسی جگہ پائی نہیں جاتی اور یا ایسے ہیں کہ فی الحقیقۃ وہ باتیں ثابت تو ہیں لیکن محل اعتراض نہیں محض سادہ لوحی اور کورباطنی اور قلتِ تدبر کی وجہ سے ان کو جائے اعتراض سمجھ لیا ہے اور یا بعض ایسے امور ہیں کہ کسی قدر تو سچ ہیں جو ایک ذرہ جائے اعتراضات نہیں ہوسکتے اور باقی سب بہتان اور افترا ہیں جو ان کے ساتھ ملائے گئے ہیں۔ اب افسوس تو یہ ہے کہ آریوں نے اپنے گھر کی عقل کو بالکل استعفا دے کر ان کی ان تمام دور از صداقت کارروائیوں کو سچ مچ صحیح اور درست سمجھ لیا ہے اور بعض آریہ ایسے بھی ہیں کہ وہ قرآن شریف کا ترجمہ کسی جگہ سے ادھوراسا دیکھ کر یا کوئی قصہ