یؔ نسبت شریف اور سلیم الطبع معلوم ہوتے ہیں اور لالہ مرلیدھر صاحب ڈرائینگ ماسٹر ہوشیارپور جو وہ بھی میری دانست میں آریوں میں سے غنیمت ہیں اور منشی اندرمن صاحب مراد آبادی جو گویا دوسرا مصرعہ سورستی صاحب کا ہیں اور مسٹر عبداللہ آتھم صاحب سابق اکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر رئیس امرتسر جو حضرات عیسائیوں میں سے شریف اور سلیم المزاج آدمی ہیں اور پادری عماد الدین لاہز صاحب امرتسری اور پادری ٹھاکر داس صاحب مؤلف کتاب اظہار عیسوی شائع کیا جاتا ہے کہ اب ہم بجائے ایک سال کے صرف چالیس روز اس شرط سے مقرر کرتے ہیں کہ جو صاحب آزمائش و مقابلہ کرنا چاہیں وہ برابر چالیس دن تک ہمارے پاس قادیان میں یا جس جگہ اپنی مرضی سے ہمیں رہنے کا اتفاق ہو رہیں اور برابر حاضر رہیں پس اس عرصہ میں اگر ہم کوئی امر پیشگوئی جو خارق عادت ہو پیش نہ کریں یا پیش تو کریں مگر بوقت ظہور وہ جھوٹا نکلے یا وہ جھوٹا تو نہ ہو مگر اسی طرح صاحب ممتحن اس کا مقابلہ کرکے دکھلادیں تو مبلغ پانسو3 رو پیہ نقد بحالت مغلوب ہونے کے اسی وقت بلاتوقف ان کو دیا جائے گا لیکن اگر وہ پیشگوئی وغیرہ بہ پایۂ صداقت پہنچ گئی تو صاحب مقابل کو بشرف اسلام مشرف ہونا پڑے گا۔ اور یہ بات نہایت ضروری قابل یادداشت ہے کہ پیشگوئیوں میں صرف زبانی طور پر نکتہ چینی کرنا یا اپنی طرف سے شرائط لگانا ناجائز اور غیر مسلم ہوگا بلکہ سیدھا راہ شناخت پیشگوئی کا یہی قرار دیا جائے گا کہ اگر وہ پیشگوئی صاحب مقابل کی رائے میں کچھ ضعف یا شک رکھتی ہے یا ان کی نظر میں قیافہ وغیرہ سے مشابہ ہے تو اسی عرصہ چالیس روز میں وہ بھی ایسی پیشگوئی ایسے ہی ثبوت سے ظاہر کرکے دکھلاویں اور اگر مقابلہ سے عاجز رہیں تو پھر حجت ان پر تمام ہوگی اور بحالت سچے نکلنے پیشگوئی کے بہرحال انہیں مسلمان ہونا پڑے گا اور یہ تحریریں پہلے سے جانبیَن میں تحریر ہوکر انعقاد پاجائیں گی چنانچہ اس رسالہ کے شائع ہونے کے وقت سے یعنے ۲۰؍ ستمبر ۱۸۸۶ ء سے ٹھیک تین ماہ کی مہلت صاحبان موصوف کو دی جاتی ہے اگر اس عرصہ میں ان کی طرف سے اس مقابلہ کے لئے کوئی منصفانہ تحریک نہ ہوئی تو یہ سمجھا جائے گا کہ وہ گریز کرگئے۔ والسلام علیٰ من اتّبع الہدیٰ۔
المشتہر
خاکسار غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور پنجاب