جیوؔ کا کوئی ربّ یعنے پیدا کنندہ نہیں ایسا ہی میرا جسمی مادہ بھی پیدا کرنے والے سے بکلّی بے نیاز ہے۔ میں پرمیشر کی طرح خودبخود ہوں اور واجب الوجود اور قدیم اور انادی ہوں۔ میری روح اور میرا جسمی مادہ کسی دوسرے کے سہارے سے نہیں بلکہ قدیم سے یہ دونوں ٹکڑے میرے وجود کے قائم بالذّات ہیں۔ ایسا ہی وید کی اس تعلیم پر بھی میرا کامل یقین ہے کہ مکتی یعنے نجات ہمیشہ کے لئے کسی کو نہیں مل سکتی اور ہمیشہ عزت کے بعد ذلت کا دورہ لگا ہوا ہے۔ میں وید کی ان سب تعلیموں کو دلی یقین سے مانتا ہوں کہ پرمیشر ایک ذرّہ کے پیدا کرنے پر بھی قادر نہیں اور نہ بغیر عمل کسی عامل کے ایک ذرہ کسی پر رحمت کرسکتا ہے اور نہ بغیر ہزاروں جونوں میں ڈالنے کے ایک ذرہ گناہ توبہ یا استغفار یا سچی پرستش اور محبت سے بخش سکتا ہے اور میں وید کے رو سے اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ چاروں وید ضرور ایشر کا کلام ہے جو ہمیشہ اور قدیم سے ہر نئی دنیا میں ہمارے ہی آریہ دیس میں چار رشیوں پر جو اگنی اور وایو وغیرہ ہی اترتا رہا ہے کبھی اس سے باہر نہیں اترا اور نہ کبھی ہماری زبان سنسکرت کے سوا