کی عزتؔ رکھ لی اور مقرون کے معزز خطاب سے ملقب ہوگیا لیکن اگر اس عرصہ میں کسی ویددان نے تحریک نہ کی تو وہ خطاب جو مقرون کے مقابل پر ہے سب نے اپنے لئے قبول کرلیا اور اگر پھر باز نہ آویں تو آخر الحیل مباہلہ ہے جس کی طرف ہم پہلے اشارت کرآئے ہیں۔ مباہلہ کے لئے وید خوان ہونا ضروری نہیں ہاں باتمیز اور ایک باعزت اور نامور آریہ ضرور چاہیئے جس کا اثر دوسروں پر بھی پڑسکے سو سب سے پہلے لالہ مرلیدھرؔ صاحب اور پھر لالہ جیونداس صاحب سیکرٹری آریہ سماج لاہور اور پھر منشی اندرمن صاحب مراد آبادی اور پھر کوئی اور دوسرے صاحب آریوں میں سے جو معزز اور ذی علم تسلیم کئے گئے ہوں مخاطب کئے جاتے ہیں کہ اگر وہ وید کی ان تعلیموں کو جن کو کسی قدر ہم اس رسالہ میں تحریر کرچکے ہیں۔ فی الحقیقت صحیح اور سچے سمجھتے ہیں اور ان کے مقابل جو قرآن شریف کے اصول و تعلیمیں اسی رسالہ
اُسے خدا تو نہیں کہہ سکوں پہ کہتا ہوں
کہ اُس کے مرتبہ دانی میں ہے خدا دانی
کیا ہی خوش نصیب وہ آدمی ہے جس نے محمد مصطفی ٰ صلی اللہ علیہ و سلم کو پیشوائی کے لئے قبول کیا اور قرآنِ شریف کو رہنمائی کے لئے اختیار کرلیا۔ اللّٰھم صلّ علی سیّدنا و مولانا محمدٍ واٰلہِ واصحابہٖ اجمعین۔ الحمدللّٰہِ الّذی ھدٰی قلبنا لِحُبّہٖ ولحب رسولہ و جمیع عبادہِ المُقرّبین۔
تا بردلم نظر شد از مہر ماہ مارا کر دست سیم خالص قلبِ سیاہِ مارا
کہ ا عؔ بڑا ہے رکؔ سے اور رک ؔ بڑا ہے وس ؔ سے۔ پس ثابت ہوا کہ ا ع ؔ جو مرکز تک کھنچا ہے سب خطوط سے بڑا ہے یہی ہمارا دعویٰ تھا فقط۔ منہ۔