حالت ؔ میں اس کو ملے گا۔ شرط یہی ہے کہ وہ ویدوں کو پڑھ سکتا ہو تا ہمارے وقت کو ناحق ضائع نہ کرے۔ جاننا چاہئے کہ جو شخص حق سے اپنے تئیں آپ دور لے جاوے اس کوملعون کہتے ہیں اور جو حق کے حاصل کرنے میں اپنے نفس کی آپ مدد کرے اس کو مقرون کہتے ہیں۔ اب ہوتےؔ ہیں اور حرکت شوقیہ میں تیزی اور گرمی ہوتی ہے اور وفا اور صدق میں قیام اور استحکام ہوتا ہے اسی قدر اس کی وحی میں کمال ہوتا ہے۔ اب ہماری طرف سے یہ دعویٰ ہے جس کو ہم بمقابل ہریک فریق کے ثابت کرنے کو طیار ہیں کہ وحی قرآنی اپنی تعلیم اور اپنے معارف اور برکات اور علوم میں ہریک وحی سے اقویٰ و اعلیٰ ہے اور اس کے اثبات میں کسی قدر ہم کتاب براہین میں لکھ بھی چکے ہیں اور اکثر حصہ اس کتاب کا جو انشاء اللہ رسالہ سراج منیر کے بعد چھپنا شروع ہوگا انہیں ثبوتوں سے بھرا ہوا ہے۔ اور ہم نے اپنی کتاب براہین میں جس کے ساتھ دس ہزار روپیہ کا اشتہار ہے نہایت معقول اور مدلل طور پر ثابت کردیا ہے کہ فی الحقیقت قرآن شریف اپنے معارف اور حکمتوں اور ُ پربرکت تأثیروں اور بلاغتوں میں اس حد تک پہنچا ہوا ہے جس تک پہنچنے سے انسانی طاقتیں عاجز ہیں اور جس کا مقابلہ کوئی بشر نہیں کرسکتا اور نہ کوئی دوسری کتاب کے زاویہ قؔ و ط ؔ ہر ایک قائمہ ہے۔ اس لئے (بحکم ۴۷ ش م ا) مربع ع لؔ برابر ہوا مربع ل قؔ اور ق ع کے اور مربع ع م کا برابر ہے مربع ع ؔ ط اور ط ؔ م کے۔ چونکہ (بحکم ۱۵ حد م ا) خط مستقیم ع لؔ برابر ہے ع مؔ کے اس لئے مربع