ہوتیؔ ہیں یعنی طریقہ حقہ خداشناسی و معرفت نعماء الٰہی و بجاآوری اعمال صالحہ و تحصیل اخلاق مرضیہ و تزکیہ نفس عن رذائل نفسیہ ان سب معارف کے صحیح اور حق طور پر بیان کرنے سے وید بکلی محروم ہے۔ کیا کوئی آریہ صفحہ زمین پر ہے کہ ہمارے مقابل پر ان امور میں وید کا قرآن شریف سے مقابلہ کرکے دکھلاوے؟ اگر کوئی زندہ ہو تو ہمیں اطلاع دے وہ ؔ بخط مستقیم قدم بڑھا سکتے ہیں۔ ترقی کریں تو یہ خطوط مستقیمہ ترقی کی اپنی عمودی حالت میں وتر کے اُن اُن نقاط کو جاملیں گے جو ٹھیک ٹھیک ان کے محاذات میں پڑے ہیں اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اس سفلی قوس میں ایک نقطہ ایسا بھی ضرور ہے کہ جو ٹھیک ٹھیک نقطہ مرکز کے محاذ ہے اب فرض کرو کہ وہ نقطہ ج ہے جو مرکز ع کے محاذ ہے اسی طرح نقطہ د کا خط ص اور نقطہ ب کا خط ط اور نقطہ ک کا خط م کا محاذ ہے جب کہ یہ امر بہ بداہت ظاہر ہے تو اب ہم کہتے ہیں کہ ثبوت ہندسے سے باستعانت انیسویں شکل مقالہ اول اقلیدس و سینتالیسو۴۷یں شکل مقالہ مذکور بپایہ صداقت پہنچ سکتا ہے کہ اگر کسی طرف محیط کے کئی نقاط فرض کرکے قطر دائرہ تک خطوط مستقیمہ عمودی حالت میں کھینچے جائیں تو سب سے بڑا وہ خط مستقیم ہوگا جو نقطہ مرکز تک پہنچے گا۔* اور یہ امر فرض کرو کہ دائرہ ا ؔ بؔ سؔ ج ؔ کے قوس بؔ ج ؔ لؔ میں نقاط و ؔ ‘ رؔ ‘ ا ؔ ‘لؔ ‘ؔ م ؔ ‘ نؔ سیخطوط مستقیم و سؔ اور ر کؔ ‘ اؔ ع ‘ لؔ ق ‘ م ط ‘ ن ص ‘ ج ب قطر کے نقاط س ‘ ک ‘ ع ‘ق ‘ ط ‘ص تک عمودی حالت میں کھینچے ہوئے ہیں اور ان میں ا ؔ ع وہ خط مستقیم ہے جوکہ مرکز ع ؔ تک کہ نقطہ ا ؔ کا