ہےؔ تو اسے نئے سرے زندہ کرتا ہے یہ نہیں کہ ایک ہی بارش پر ہمیشہ کے لئے کفایت کرے۔ خیال کرنا چاہیئے کہ یہ کیسی اعلیٰ درجہ کی صداقت ہے جو الہامات تازہ بتازہ کا کبھی دروازہ بند نہیں ہوتا لیکن وید کے رو سے تو کروڑہا برس ہوئے کہ وہ بند ہوگیا اور اب اس کے پرانے کاغذات پنڈتوں کے چرکیں اور پرآلائش بستوں میں دبے پڑے ہیں
علیہؔ و سلم ہیں اور باقی سب رسل و غیر رسل اس سے مراتب میں کم ہیں ہاں بعض طبائع ظلّی طور پر حسب اندازہ دائرہ استعداد اپنے کے اس کمال کو پاتے ہیں۔ مگر حقیقی و اتم و اکمل و اشد و اجلٰی و اصفٰی و ارفع و اعلیٰ طور پر کمال مرتبہ ثالثہ اسی کو حاصل ہے اس سوال کے جواب میں ہم پہلے بھی کسی قدر تحریر کرآئے ہیں کہ وجدان صحیح اور دلائل معقولہ اس بات کو چاہتے ہیں کہ خداتعالیٰ جو واحد لاشریک ہے اور وحدت کو دوست رکھتا ہے وہ مصدر وحدت ہو یعنی اس کا طرز پیدائش متفرق اور پریشان طور پر نہ ہو بلکہ اس نے مخلوقات کے تمام افراد کو ایک احسن انتظام وحدت سے ظہور پذیر کیا ہو اور اسی پر ہمارا ذاتی مشاہدہ بھی شہادت دے رہا ہے جب ہم چھوٹے چھوٹے کیڑوں سے لے کر انسان تک نظر پہنچاتے ہیں یا ہم ایک ایسے آدمی سے جس کی علمی و عملی قوتیں نہایت ہی ضعیف یا ُ پرظلمت ہیں ایک اعلیٰ درجہ کی فطرت پر نگاہ ڈالتے ہیں تو تمام سلسلہ مخلوقات کا ہمیں یوں نظر آتا ہے کہ گویا وہ ایک خط مستقیم عمودی ہے جس کی ایک طرف ارتفاع اور دوسری طرف انخفاض ہے۔ سو ہمیں اس خط پر نظر ڈالنے سے بناچاری ماننا پڑتا ہے کہ یہ سلسلہ مخلوقات ادنیٰ مخلوق سے لے کر ایک اعلیٰ مخلوق تک پہنچتا ہے اور ایسی عمدہ ترتیب سے یہ سلسلہ اوپر کو چڑھتا جاتا ہے کہ بعض حیوان درمیان میں ایسے آگئے ہیں کہ ان پر نظر ڈالنے سے معلوم