بھیؔ جاؤ اور وید کو ساتھ لے جاؤ سو نہ تو اس پرمیشر نے اپنے رشیوں کو یہ ہدایت دی اور نہ دوسرے ملکوں پر کبھی مستقل طور پر رحمت کی۔ ہزاروں اور لاکھوں ان میں مکار اور فریبی تو آئے مگر صادق منجانب اللہ ملہم ہوکر ایک بھی نہ آیا۔ کیا یہ ایسا خیال ہے کہ کسی راست باز کا نور قلب اس کو قبول کرسکتا ہے؟ کیا خدائے تعالیٰ جو رب العالمین ہے اس کی یہی سچؔ سمجھ کر دین اسلام قبول کرتے رہے۔ اگر درخانہ کس است حرفے بس است۔ ایک بڑی پیش گوئی حضرت مسیح علیہ السلام کی جو انجیل متی باب ۲۱ میں لکھی ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی جلالیت تامہ اور مظہر تام الوہیت ہونے میں ان لوگوں کے لئے بڑا قوی ثبوت ہے جو ذرہ آنکھیں کھول کر اس پیشگوئی کو پڑھیں کیونکہ اس پیشگوئی میں جو آیت ۳۳ سے شروع ہوتی ہے ان تینوں قسموں کے قرب کی خوب ہی تصریح کی گئی ہے جن کا ثابت کرنا اس حاشیہ کا اصلی مدعا ہے۔ سو حضرت مسیح علیہ السلام نے ان نبیوں کو جو شریعت موسوی کی حمایت کے لئے ان سے پہلے آئے تمثیلی طور پر قرب کے درجہ میں بطور نوکروں کے بیان کیا ہے جو پہلا درجہ ہے۔ اور پھر اپنے لئے قرب کے دوئم درجہ کا اشارہ کرکے بیٹے کے لفظ سے اپنے اس مقام قرب کو ظاہر فرمایا ہے اور پھر تیسرا درجہ قرب کا جو مظہر اتم الوہیت ہے وہ شخص قرار دیا جو بیٹے کے مارے جانے کے بعد آئے گا جو باغ کا مالک اور نوکروں کا آقا اور اس بیٹے کا باپ مجازی طور پر ہے* بعض آثار میں آیا ہے کہ حضرت مریم صدیقہ والدہ حضرت مسیح علیہ السلام عالم آخرت میں زوجہ مطہرہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی ہوگی یہ قول غالباً اسی مناسبت بیٹے اور باپ سے پیدا ہوا ہے کہ جب عالم تمثیل میں حضرت مسیح آنحضرت ؐکے بطور بیٹے کے ٹھہرے تو ان کی والدہ بطور زوجہ کے ہوئی۔ منہ۔