پھر صفحہ ۵۸ سطر ۲۴۔ اسی ترجمہ میں جارج سیل صاحب اپنے عیسائی تعصب کے جوش سے یہ بے دلیل اور مہمل رائے لکھتے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے کہ انجیل برنباس میں لفظ پیری قلیط (جس کا ترجمہ محمدؐ ہے) مسلمانوں نے داخل کردیا ہوگا مگر یقین کیا جاتا ہے کہ یہ کتاب اصلی جعل مسلمانوں کا نہیں۔ یعنی مسلمانوں نے اس میں صرف اس قدر جعل کیا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے آنے کی پیش گوئی بتصریح نام اس میں لکھ دی ہے اور جعل یہ اس لئے ٹھہرا کر یہ پیشگوئی صریح صریح اس میں موجود ہے جس کا ماننا حضرات عیسائیوں کو کسی طور سے منظور ہی نہیں اور لطف یہ کہ آپ ہی اقراری ہیں کہ اس پیش گوئی کو پڑھ کر بڑے بڑے نیک بخت اور فاضل راہب مسلمان ہوتے رہے ہیں فتدبر۔ منہ ۔