اورؔ فریبی اور ٹھگ کے نام سے موسوم کرتے ہیں ان میں سے کوئی بھلا مانس یہ خیال نہیں کرتا کہ اول تو حکمت اور رحمت عامہ خدائے تعالیٰ سے یہ بہت بعید ہے کہ قدیم سے اور ازل سے ابد تک ایک خاص اور محدود جگہ سے بے وجہ تعلق پیدا کرکے ہزارہا ممالک وسیعہ کو اپنے الہام اور کلام سے اور براہ راست فیض یاب ہونے سے ہمیشہ کے لئے محروم رکھے ماسوا اس کے اتفاقؔ کرکے مسیحی کتب خانوں میں جاگھسے اور اپنی طرف سے بربناس کی انجیلوں میں جابجا محمد ؐ نبی نام درج کردیا یا خود یونانی یا عبرانی زبانوں میں اپنی طرف سے انجیل برنباس بنا کر اور کئی ہزار نسخے اس کے لکھ کر پوشیدہ طور پر جبکہ عیسائی سوتے تھے وہ کتابیں ان کے کتب خانوں میں رکھ آئے لیکن ایک انگریز فاضل عیسائی جس نے کچھ تھوڑا عرصہ ہوا قرآن شریف کا انگریزی میں ترجمہ کیا ہے اس نے اپنے دیباچہ میں اس تقریب کے بیان میں کہ انجیل برنباس میں پیش گوئی حضرت محمدصلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں موجود ہے یہ قصہ تحریر کیا ہے کہ برنباس کی انجیل پوپ پنجم کے کتب خانہ میں تھی اور ایک راہب جو اس پوپ کا دوست تھا اور مدت سے اس انجیل کی تلاش میں تھا۔ وہ پوپ کی الماری میں جبکہ پوپ سویا ہوا تھا اس انجیل کو پاکر بہت خوش ہوا اور کہا کہ یہ میری وہ مراد ہے جو مدت کے بعد پوری ہوئی اور اس انجیل کو اپنے دوست پوپ کی اجازت سے لے گیا اور نام آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا یعنی محمد رسول اللہ ٰصلی اللہ علیہ و سلم کھلا کھلا انجیل میں لکھا ہوا دیکھ کر مسلمان ہوگیا پس اس فاضل انگریز* کی اس تحریر سے جو ہمارے پاس موجود ہے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ہمیشہ یہ کتاب پوپوں کے کتب خانوں میں چاروں انجیلوں میں شامل کرکے عزت کے ساتھ رکھی جاتی تھی تب ہی تو ایسے ایسے بزرگ اور فاضل راہب اس انجیل کو پڑھ کر مسلمانؔ