آریہ ؔ دیس ہی ہے بھلا اگر ہم ان تمام باتوں میں سچے نہیں ہیں تو ویدوں کے رو سے یہ ثابت کرنا چاہیئے کہ کسی وید کے رشیوں نے آریہ دیس سے باہر قدم رکھ کر اور ویدوں کو اپنی بغل میں لے کر غیر ممالک کا بھی سفر کیا تھا یہ بات ہرگز ثابت نہیں ہوسکتی پنڈت دیانند بھی ثابت نہ کرسکا اب عجیب طور پر وید کے پرمیشر کا ظلم ثابت ہوتا ہے کہ ایک طرف تو وید صاف اقراری ہے کہ دنیا کی ابتدا میں متفرق طور پر متفرق ممالک میں نوع انسان زمین سے پیدا ہوگئے تھے اور ان سب کی اصلاح کے لئے وید آئے تھے اور پھر دوسری طرف یہ عجیب وید کچھ ثبوت ہاتھ میں نہیں پکڑاتا کہ کب اور کس وقت ویدوں کے رشی دوسرے ملکوں میں سمجھانے کے لئے گئے تھے یا اپنے خط بھیجے تھے یا پیغام پہنچانے سے شرط تبلیغ پوری کی تھی یا وید میں وصیت کرگئے تھے کہ فلاں فلاں ملک اور بھی ہیں ان میں پانےؔ کے لائق خیال کئے جاتے ہیں اور ان کی بزرگواری اور خدا رسیدہ ہونے پر اکثر عیسائیوں کو اتفاق ہو وہ اس امر کی آزمائش و مقابلہ کے لئے کہ روح قدس کی تائیدات سے کون سی قوم عیسائیوں اور مسلمانوں میں سے فیض یاب ہے کم سے کم چالیس دن تک اس عاجز کی رفاقت اور مصاحبت اختیار کریں پھر اگر کسی کرشمہ روح القدس کے دکھلانے میں وہ غالب آجائیں تو ہم اقرار کرلیں گے کہ یہ پیش گوئی حضرت مسیح علیہ السلام کے حق میں ہے اور نہ صرف اقرار بلکہ اس کو چند اخباروں میں چھپوا بھی دیں گے لیکن اگر ہم غالب آگئے تو پادری صاحب کو بھی ایسا ہی اقرار کرنا پڑے گا اور چند اخباروں میں چھپوا بھی دینا ہوگا کہ وہ پیشگوئی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم کے حق میں نکلی مسیح کو اس سے کچھ علاقہ نہیں بلکہ اس تصفیہ کے لئے ہماری صحبت میں بھی رہنا کچھ ضروری نہیں۔ یہ عاجز عنقریب اس رسالہ کے بعد رسالہ سراج منیر کو انشاء اللہ القدیر چھپوانے والا ہے