آگؔ وہوا وغیرہ تھا یہ سب بناوٹی باتیں ہیں جیسا کہ منشی اندرمن صاحب مراد آبادی بھی اپنے رسالہ آریو پرکاش میں اس کے قائل ہیں۔ ہندوؤں کو آگ وغیرہ اپنے دیوتاؤں سے بہت پیار رہا ہے اور رگوید کی پہلی شرتی اگنی سے ہی شروع ہوتی ہے سو جن چیزوں سے وہ پیار کرتے تھے انہیں چیزوں پر ویدوں کا نازل ہونا تھاپ دیا ورنہ ویدوں میں تو کہیں نہیں لکھا کہ حقیقت میں ایسے چار آدمی کسی ابتدائی زمانہ میں گزرے ہیں اور انہیں پر ویدؔ نازل ہوئے ہیں اور اگر لکھا ہے تو پھر آریوں پر واجب ہے کہ ویدوں کے رو سے ان کا ملہم ہونا اور ان کا سوانح عمری کسی رسالہ میں چھپوا دیں۔ آریوں کا یہ اعتقادی مسئلہ ہے کہ ابتدائے دنیا میں نہ صرف ایک دو آدمی بلکہ کروڑہا آدمی مختلف ملکوں میں مینڈکوں کی طرح زمین کے بخار سے پیدا ہوگئے تھے ان میں سے آریہ دیس کے چار رشی ملہم اور باقی سب مخلوقات الہام سے بے نصیب اور ان ملہموں کے حوالے کردی گئی تھی۔ اس ایسا ہی یوحنا نبی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جلالیت و عظمت ظاہر کرنے کے لئے بطور پیشگوئی گواہی دی جو انجیل متی باب سوم میں اس طرح پر درج ہے۔ (۱۱) میں تو تمہیں توبہ کے لئے پانی سے بپتسما دیتا ہوں لیکن وہ جو میرے بعد آتا ہے مجھ سے قوی ترہے کہ میں اس کی جوتیاں اٹھانے کے لائق نہیں وہ تمہیں روح ُ قدس اور آگ سے بپتسما دے گا۔ اس پیشگوئی پر محض نادانی کی راہ سے عیسائی لوگ خصومت کرتے ہیں کہ یہ حضرت مسیح علیہ السلام کے حق میں ہے مگر یہ دعویٰ سراسر باطل و بے بنیاد ہے اوّل تو حضرت مسیح حضرت یوحنا کے ہم عصر تھے نہ کہ بعد میں آنے والے یا بعد میں ابنیت کا منصب پانے والے۔ ماسوا اس کے ہریک شخص آزما سکتا ہے کہ دائمی طور پر سچے طالبوں کو روح ُ قدس اور آتش محبت سے بپتسما دینے والا آسمان کے نیچے صرف ایک ہی ہے یعنی جناب سیدنا و مولانا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم جس کے جلالِ تام کا حضرت مسیح اپنی پیش گوئیوں