اسؔ کی کسی نعمت و رحمت کا قائل نہیں یاں تک کہ چاند اور سورج اور زمین وغیرہ اجزاء ضروریہ اولیہ عالم کی ویدکے رو سے خدا تعالیٰ کی ذاتی و اصلی رحمت نہیں بلکہ یہ بھی کسی آریہ کے نیک عمل کی وجہ سے ہریک نئی دنیا میں خواہ نخواہ پرمیشر کو پیدا کرنی پڑتی ہیں غرض ویدکے رو سے پرمیشر میں اپنی ذاتی رحمت کا نام و نشان نہیں جو کچھ آسمان و زمین میں نظر آتا ہے وہ آریوں کے نیک عملوں کی وجہ سے پیدا ہوگیا مگر پرمیشر کی اس میں بڑی بھاری غلطی یہ ہے کہ وہ زمین اور چاند و سورج وغیرہ کو پیدا تو کرے صرف آریوں کے نیک عملوں کی وجہ سے اور پھر دوسرے ملکوں کے لوگوں کو بھی اس ہندوؤں کے حق خاص میں شریک کردے کیسا ظلم ہے؟ ایسا ہی وید نے اعمال صالحہ اور اخلاق فاضلہ کے بیان سے فراغت کررکھی ہے آریہ لوگوں کے شتر بے مہار رہنے کی یہی وجہ ہے کہ عبودیت اور پرستش کے تجھؔ کو ابد تک مبارک کیا (۳) اے پہلوان تو جاہ و جلال سے اپنی تلوار حمائل کرکے اپنی ران پر لٹکا (۴) امانت اور حلم اور عدالت پر اپنی بزرگواری اور اقبال مندی سے سوار ہوکہ تیرا داہنا ہاتھ تجھے ہیبت ناک کام دکھائے گا (۵) بادشاہ کے دلوں میں تیرے تیر تیزی کرتے ہیں لوگ تیرے سامنے گر جاتے ہیں (۶) اے خدا تیرا تخت ابدالآباد ہے (یہ فقرہ اسی مقام جمع سے ہے جو قرآن شریف میں کئی مقام میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں بولا گیا ہے) تیری سلطنت کا عصا راستی کا عصا ہے (۷) تو نے صدق سے دوستی اور شر سے دشمنی کی اسی لئے خدا نے جو تیرا خدا ہے خوشی کے روغن سے تیرے مصاحبوں سے زیادہ تر تجھے معطر کیا۔ بادشاہوں کی بیٹیاں تیری عزت والی عورتوں میں ہیں۔ اسی طرح حضرت یسعیا نبی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جلالیت و عظمت و مظہر تام الوہیت ہونے کے بارے میں اپنے صحیفہ کے باب بیالیس میں بطور