اورؔ اس کی طرح ہریک چیز خودبخود اور قدیم اور واجب ہے اور ہمیشہ کے لئے کسی کو نجات نہیں اس کے سب مفاسد ہم نے اس رسالہ میں بیان کردیئے ہیں اور اس کی رد کے دلائل اپنے ہاتھ سے لکھ دیئے ہیں اور ہم ہریک پر ظاہر کرتے ہیں کہ یہ نہایت بری تعلیم ہے کہ جو انسان کو اپنے خالق سے اصلی پیوند ہے اس کو بھی دور کرنا چاہتی ہے چہ جائیکہ اس کو دوسرے پیوند کی خوشخبری دے۔ ایسا ہی یہ لوگ وید کے بعد دنیا کے انتہا تک الہامات الٰہیہ کے منکر ہیں یہ کس قدر مفسدانہ خیال ہے۔ نبی کا وجود اس لئے ہوتا ہے کہ تا وہ اپنے ظہور سے نقطہ آخری ترقیات انسانیہ کا ظاہر کرے اور اپنے وجود سے دو طرفہ نمونہ صدق عبودیت وفضل ربوبیت قائم کرکے سالکین و مجاہدین کی کمر ہمت مضبوط کرے اور ان کو اسی انتہائی کمال تک اپنے تعطف سے پہنچانا چاہے جس پر عنایت ایزدی نے اس کو قائم کیا ہے لیکن یہ لوگ الہام کو جو کمالیت کی حقیقی علامت ہے ویدوں تک محدود رکھتے ہیں اور اگر کوئی آریہ ہمارے اس تمام رسالہ کو پڑھ کر پھر بھی اپنی ضد کو چھوڑنا نہ چاہے اور اپنے کفریات سے باز نہ آوے تو ہم خدائے تعالیٰ کی طرف سے اشارہ پاکر اس کو مباہلہ کی طرف
کروؔ ۔ اسی وجہ سے حضرت آدم صفی اللہ سے لے کرتا حضرت مسیح کلمۃ اللہ جس قدر نبی و رسول گزرے ہیں وہ سب کے سب عظمت و جلالیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اقرار کرتے آئے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے توریت میں یہ بات کہہ کر کہ خدا سینا سے آیا اور سعیر سے طلوع ہوا اور فاران کے پہاڑ سے ان پر چمکا صاف جتلادیا کہ جلالیت الٰہی کا ظہور فاران پر آکر اپنے کمال کو پہنچ گیا۔ اور آفتاب صداقت کی پوری پوری شعاعیں فاران پر ہی آخر ظہور پذیر ہوئیں اور وہی توریت ہم کو یہ بتلاتی ہے کہ فاران مکہ معظمہ کا پہاڑ ہے جس میں حضرت اسمٰعیل علیہ السلام جدا مجدآں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سکونت پذیر ہوئے۔