عدم شےؔ لازم نہیں آتا جس حالت میں کرۂ ارض میں خاصیت زلازل و انشقاق و اتصال پائی جاتی ہے چنانچہ بعض گذشتہ زمانوں میں صدہا میل تک زمین منشق ہوکر تہ و بالا ہوگئی ہے اور اب بھی ایسے حوادث ظہور میں آتے رہتے ہیں اور ان حوادث سے اس کی گردش میں کچھ بھی فرق نہیں آتا تو پھر حوادث قمری پر کیوں تعجب کیا جائے کیا ممکن نہیں کہ اس میں حکیم مطلق نے انشقاق و اتصال کی دونوں خاصیتیں رکھی ہوں جن کا ظہور اوقات مقررہ سے وابستہ ہو اور ازلی ارادہ سے وہی وقت ظہور مقرر ہو جب کہ ایک نبی سے ایسا ہی معجزہ مانگا گیا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ نبی کی قوت قدسیہ کے اثر سے دیکھنے والوں کو کشفی آنکھیں عطا کی گئی ہوں اور جو انشقاق قرب قیامت میں پیش آنے والا ہے اس کی صورت ان کی آنکھوں کے سامنے لائی گئی ہو کیونکہ یہ بات محقق ہے کہ مقربین کی کشفی قوتیں اپنی شدت حدت کی وجہ سےؔ دوسروں پر بھی اثر ڈال دیتے ہیں اس کے نمونے ارباب مکاشفات کے قصوں میں بہت پائے جاتے ہیں بعض اکابر نے اپنے وجود کو ایک وقت اور ایک آن میں مختلف ملکوں اور مکانوں میں دکھلا دیا ہے باذن اللہ تعالیٰ اور اس جگہ ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ حال کی فلسفی تحقیقاتیں شہادت دے رہی ہیں کہ شق قمر نہ صرف ایک مرتبہ بلکہ مخفی طور پر یہ انشقاق و اتصال ہمیشہ شمس و قمر میں جاری ہے کیونکہ اس زمانہ کی فلاسفی اپنی مستحکم رائے ظاہر کرتی ہے کہ شمس و قمر میں ایسی ہی آبادی حیوانات و نباتات وغیرہ ہے جیسی زمین پر ہے اور یہ امر انشقاق و اتصال قمری کو ثابت کرنے والا ہے کیونکہ یہ بات نہایت ظاہر ہے کہ جس کرہ میں حیوانات و نباتات وغیرہ پیدا ہوتے ہیں وہ اسی کرہ کا مادہ لے کر جسم پکڑتے ہیں یہ نہیں کہ کسی دوسرے کرہ سے گاڑیوں اور چھکڑوں پر وہ مادہ جاتا ہے اب جبکہ یہ ماننا پڑا کہ کرہ قمری میں جس قدر حیوانات اپنے حرکت ارادے سے چلنے والے موجود ہیں اور ہمیشہ پیدا ہوتے رہتے ہیں ان کا جسمی مادہ وہی ہے جو کسی وقت جرم قمر سے اتصال رکھتاتھا تو اس سے یہ بھی ماننا پڑا کہ جرم قمر کو ہمیشہ انشقاق لازم ہے اور پھر ان حیوانات کے مرجانے سے انشقاق کے بعد اتصال بھی لازم پڑا ہوا ہے تو اب اس تحقیق سے ظاہر ہے کہ اصل صورت انشقاق و اتصال کی ہروقت قمر میں بلکہ شمس میں بھی موجود ہے ہاں ایک
آنا ؔ خدا کا آنا ہے چنانچہ قرآن شریف میں اس بارے میں ایک یہ آیت بھی ہے
وَقُلْ جَآءَ الْحَـقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُؕ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا
کہہ حق آیا اور باطل بھاگ گیا اور باطل نے بھاگنا ہی تھا۔ حق سے مراد اس جگہ اللہ جل شانہٗ اور قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اور باطل سے مراد شیطان اور شیطان کا گروہ اور شیطانی تعلیمیں ہیں سو دیکھو اپنے نام میں خدائے تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کیونکر شامل کرلیا اور آنحضرت ؐ کا ظہور فرمانا خدا تعالیٰ