کیؔ وجہ سے معجزہ شق القمر سے انکار کرنا ایسا امر نہیں ہے کہ جس سے اسلام کے ایک بال کو بھی ضرر پہنچ سکے جب معجزات موجودہ قرآنیہ کا مخالفین سے رد نہیں ہوسکتا تو موجود کو چھوڑ کر ان معجزات کی بحث چھیڑنا جواب آنکھوں کے سامنے نہیں ہیں سراسر بے راہی ہے۔ ماسوا اس کے جس قدر ہم نے مقدمہ میں قانون قدرت کی تحقیقات میں لکھا ہے اس کے پڑھنے سے ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ شق قمر کا استبعاد عقلی درحقیقت ایسا نہیں ہے جیسا کہ نادان نیم حکیم خیال کرتے ہیں ابھی تک کسی عقل نے خواص قمری و شمسی پر احاطہ نہیں کیا اور نہ یہ ثابت کیا کہ خدائے تعالیٰ ان چیزوں کو بنا کر بکلی بے تعلق ہوگیا ہے اور اب یہ چیزیں اس سے باغی ہیں بلکہ خدائے تعالیٰ کے دونوں ہاتھ محو اور اثبات کے ابدی طور پر کھلے ہیں اور اپنی بے انتہا اور ناپیدا کنار قدرتوں سے جو چاہتا ہے کرتا ہے اور ظاہر ہے کہ عدم علم سے اور ؔ ان کے ہاتھ کو اپنا ہاتھ قرار دیا۔ یہ کلمہ مقام جمع میں ہے جو بوجہ نہایت قرب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں بولا گیا ہے اور اسی مرتبہ جمع کی طرف جو محبت تامہ دو طرفہ پر موقوف ہے اس آیت میں بھی اشارہ ہے۔ وَمَا رَمَيْتَ اِذْ رَمَيْتَ وَ لٰـكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى‌ۚ تو نے نہیں چلایا خدا نے ہی چلایا جب کہ تو نے چلایا ایسا ہی یہ اشارہ اس دوسری آیت میں پایا جاتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ قُلْ يٰعِبَادِىَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا‌ؕ یعنے ان کو کہہ دے کہ اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر اسراف کیا (یعنی ارتکاب کبائر کیا) تم خدا کی رحمت سے نومید مت ہو وہ تمہارے سب گناہ بخش دے گا۔ اب ظاہر ہے کہ بنی آدم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تو بندے نہیں ہیں بلکہ سب نبی و غیرنبی خدائے تعالیٰ کے بندے ہیں لیکن چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے مولیٰ کریم سے قرب اتم یعنی تیسرے درجہ کا