یؔ صداقتوں پر مشتمل ہونے میں۔ تمام مذاہب باطلہ کو عقلی طور پر رد کرنے میں۔ حقوق عباداللہ کے قائم کرنے میں۔ تأثیرات و تنویرات روحانیہ میں اور پھر باایں ہمہ فصیح اور بلیغ اور رنگین عبارت میں۔ اس کمال کے درجہ تک پہنچا ہوا ہے کہ ہریک حصہ اس کے بیان کا ان بیانات میں سے درحقیقت معجزہ عظیمہ ہے جس کا مقابلہ نہ کوئی آریہ کرسکتا ہے نہ کوئی عیسائی اور نہ کوئی یہودی اور نہ کوئی اور شخص جو کسی مذہب کا پابند ہے۔ اس جگہ بیدسراسر بے ثمر ہے اور توریت و انجیل سراسر بے اثر۔ یہی وجہ ہے کہ کسی کتاب نے یہ دعویٰ نہیں کیا جو قرآن شریف نے کیا جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے قُل لَّٮِٕنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلٰٓى اَنْ يَّاْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا يَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيْرًا‏ یعنی ان کو کہہ دے کہ اگر سب جن و انس اس بات پر متفق ہوجائیں کہ قرآن کی کوئی نظیر پیش کرنی چاہئے تو ممکن نہیں کہ کرسکیں اگرچہ بعض بعضوں ابن ؔ کے لئے بجائے اَبْ ہے۔ اور حضرت مسیح علیہ السلام کی تعلیم کا اضافی طور پر ناقص ہونا اور قرآنی تعلیم کا سب الہامی تعلیموں سے اکمل و اتم ہونا وہ بھی درحقیقت اسی بناء پر ہے کیونکہ ناقص پر ناقص فیضان ہوتا ہے اور اکمل پر اکمل۔ اور جو تشبیہات قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ظلّی طور پر خداوند قادر و مطلق سے دی گئی ہیں ان میں سے ایک یہی آیت ہے۔ جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰىۙ‏ فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى‌ۚ‏ یعنی وہ (حضرت سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنی ترقیات کاملہ قرب کی وجہ سے دو قوسوں میں بطور وتر کے واقع ہے بلکہ اس سے نزدیک تر۔ اب ظاہر ہے کہ وتر کی طرف اعلیٰ میں قوس الوہیت ہے سو جب کہ نفس پاک محمدی اپنے شدتِ قرب اور نہایت درجہ کی صفائی کی وجہ سے وتر کی حد سے آگے بڑھا اور دریائے الوہیت سے نزدیک تر ہوا تو اس