زؔ م ہے تو خالقیت اس کی خود ثابت ہے۔
پھر بعد اس کے ماسٹر صاحب اپنی ایک اور دانائی دکھلاتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ جب کہ پرمیشر نے دنیا کا کل جوڑنا جاڑنا کیا تو کیا وہ محیط نہ ہوا۔ اے ناظرین کیا تم اب بھی نہیں سمجھ سکتے کہ ماسٹر صاحب کس قدر عالم و فاضل ہیں۔ اے صاحب اگر آپ کا پرمیشر معہ اپنے علم تام و قدرت کاملہ کے جس سے وہ کسی حالت میں الگ نہیں ہوسکتا دنیا کی چیزوں پر احاطہ تام رکھتا اور ان کی کنہ تک اس کا علم پہنچا ہوا ہوتا اور ان کے خواص کی کیفیت اور ان کی قوتوں کی اصل ماہیت انتہائی درجہ پر اس کو معلوم ہوتی تو اس کی قدرت پر یہ پتھر کیوں پڑتے کہ صرف جوڑنے جاڑنے تک محدود رہتی۔ کیا انتہائی درجہ کا علم انتہائی درجہ کے عمل کو نہیں چاہتا؟ کیا دنیا میں کبھی کسی نے دیکھا یا سنا کہ جس درجہ پر علم ہے عمل اس درجہ تک نہیں پہنچ سکتا اب واضح رہے کہ ماسٹر صاحب کے اقوال فاسدہ کا خاتمہ بد اسی قول پر ہوگیا ہے جس کو ابھی ہم رد کرچکے ہیں۔ والحمدللّٰہ علی مانصرنا واخزی اعدائنا وظھر الحق وھم کارھون۔
مختصر تقریر بطور خلاصہ مباحثہ
ناظرین اس رسالہ کو پڑھ کر سمجھ سکتے ہیں کہ ماسٹر مرلیدھر صاحب کا اعتراض شق القمر
الیٰؔ آخرتنزّلات وجود سے مراد ہے اجمالی طور پر احاطہ رکھتا ہے۔ ایسا ہی ظل الوہیت ہونے کی وجہ سے مرتبہ الٰہیہ سے اس کو ایسی مشابہت ہے جیسے آئینہ کے عکس کو اپنے اصل سے ہوتی ہے۔ اور امہات صفات الٰہیہ یعنی حیواۃ علم ارادہ قدرت سمع بصر کلام مع اپنے جمیع فروع کے اتم و اکمل طور پر اس میں انعکاس پذیر ہیں۔ اس نقطہ مرکز کو جو برزخ بین اللہ و بین الخلق ہے یعنی نفسی نقطہ حضرت سیدنا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو مجرد کلمۃ اللہ کے مفہوم تک محدود نہیں