جبؔ کہ یہ بات بدیہی ثبوت ہے کہ خالق ہونا محیط ہونے کی فرع ہے تو پھر اصل صفت کو جو محیط ہونا ہے ذات باری جل شانہٗ میں تسلیم کرکے اس کی فرع کے ماننے سے کیوں انکار کیا جاتا ہے۔ یہ بات اجلٰی بدیہات ہے کہ اصل کے ثبوت کو فرع کا ثبوت لازم پڑا ہوا ہے مثلاً جو شخص طلوع آفتاب کا اقرار کرکے پھر رات ہونے پر ضد کررہا ہے وہ اپنی بات کو اپنے ہی قول سے ردّکرتا ہے اسی طرح جب تم نے اپنے منہ سے مان لیا کہ خدائے تعالیٰ اپنی ذات اور علم کامل اور قدرت کامل سے ذرّہ ذرّہ عالم پر ایسا محیط ہے کہ ہریک چیز اس کے احاطہ تام میں معہ اپنی تمام کنہ اور کیفیت کے مستغرق ہے تو تمہیں اس کی یہ فرع بھی ماننی پڑے گی کہ وہ ان چیزوں کا خالق بھی ہے کیونکہ علم تام کو عمل جوجو اس کی فرع ہے لازم پڑا ہوا ہے اور جس طرح یہ بات ظاہر ہے کہ کسی چیز کے بنانے سے پہلے اول اس چیز کا علم ضروری ہے کہ وہ چیز اس طور اور اس طریق سے بنانی چاہئے اسی طرح یہ بھی ظاہر ہے کہ کسی عمل پر قادر ہونے کے لئے یہی ایک طریق ہے کہ اس عمل کے متعلق علم تام حاصل ہوجائے۔ سو اگر خدائے تعالیٰ اعیانِ موجودات کی حقیقت سے جیسا کہ چاہئے واقف ہے تو بے شک وہ ان کے بنانے پر بھی قادر ہے وجہ یہ کہ علم تام اسی علم کو کہا جاتا ہے جس کے ذریعہ سے وجود اشیاء کی اصل حقیقت کماحقہٗ منکشف ہوجائے اور کوئی جز وجود کی غیر مکشوف نہ رہے۔ انسان کا علم جو ناقص ہے وہ اسی وجہ سے ناقص ہے اہلؔ اللہ میں نفسی نقطہ احمد مجتبیٰ و محمد مصطفیٰ نام رکھتے ہیں اور فلاسفہ کی اصطلاحات میں عقل اول کے نام سے بھی موسوم کیا گیا ہے۔ اور اس ُ نقطہ کو دوسرے وتری نقاط کی طرف وہی نسبت ہے جو اسم اعظم کو دوسرے اسماء الٰہیہ کی طرف نسبت واقعہ ہے۔ غرض سرچشمہ ر موزِغیبی و مفتاح کنوزِ لاَرَیبی اور انسان کامل دکھلانے کا آئینہ یہی نقطہ ہے اور تمام اسرار مبدء و معاد کی علت غائی اور ہریک زیرو