ماسٹرؔ صاحب کے اس قول کو اسی جگہ بطور امانت رکھ کر اصل مطلب پر نظر ثانی کرنی چاہئے کہ یہ بات نہایت بدیہی اور ظاہر ہے کہ اگر خدائے تعالیٰ کسی چیز پر محیط ہے تو اس کا علم بھی اس پر محیط ہوگا اور اس کی قدرت کاملہ بھی اس پر محیط ہوگی کیونکہ خدائے تعالیٰ کی ذات اس کی صفات سے الگ نہیں ہے تا یہ کہا جائے کہ وہ محیط ہونے کے وقت اپنی صفات کو کسی طاق پر جدا رکھ آتا ہے۔ اب جبکہ قدرت کاملہ اور علم کامل خدائے تعالیٰ کا ہریک چیز پر محیط ہوا تو یہی حقیقت خالقیت ہے کیونکہ ہم کئی مقام میں پہلے بھی تحریر کرچکے ہیں کہ علم کامل کو بشرط قدرت عمل مستلزم ہے اگر انسان کسی چیز کی نسبت علم کامل رکھتا ہو اور باایں ہمہ ایسے اسباب بھی اسے میسر ہوں جن سے اس کو قدرت و طاقت عمل پیدا ہوجائے تو اس چیز کو وہ بناسکتا ہے بلکہ ہزارہا صنعتیں جو انسان بنارہا ہے اور ابتدائی پیدائش سے بناتا چلا آیا ہے ان کے بنائے جانے کی ضروری شرطیں یہ دو ہی ہیں اور اگر کسی چیز کا علم کامل ہو اور پھر اس پر تصرف کرنے کی قدرت کامل بھی ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ چیز بنانے سے رہ جائے پس جب کہ انسان کا یہ حال ہے تو پرمیشر پروہ نامعلوم پتھر کون سے پڑگئے کہ ایک طرف تو اس کی نسبت یہ بیان کیا جاتا ہے کہ ہریک چیز کے بارے میں اس کا علم کامل ہے اور وہ اپنے علم کامل اور قدرت کامل کے ساتھ ہریک چیز اور ذرّہ ذرّہ پر محیط ہے اور ایک طرف اُس کو خالق اور پیدا کنندہ ہونے سے صاف جواب دیا جاتا ہے
منبع ؔ و اصل ہے اور درحقیقت اسی ایک نقطہ سے خط وتر انبساط و امتداد پذیر ہوا ہے اور اسی نقطہ کی روحانیت تمام خط و تر میں ایک ہویت ساریہ ہے جس کا فیضِ اقدس اس سارے خط کو تعین بخش ہوگیا ہے۔ عالم جس کو متصوفین اسماء اللہ سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس کا اوّل و اعلیٰ مظہر جس سے وہ علیٰ وجہ التفصیل صدور پذیر ہوا ہے یہی ُ نقطہ درمیانی ہے جس کو اصطلاحات