کہؔ کنہ اشیاء تک نہیں پہنچتا بلکہ وہ کچھ تھوڑا ہی چل کر پھر آگے چلنے سے رہ جاتا ہے مثلاً انسان ایک حجری مومیائی کو دیکھ کر اس قدر تو کہہ سکتا ہے کہ یہ مومیائی بخارات لطیفہ پتھر میں سے نکلی ہے اور پھر پتھر پر غور کرکے کہہ سکتا ہے کہ یہ پتھر بالویعنی ریت کی دہنیت دار اجزاء سے وجود پذیر ہوا ہے اور پھر بالو کی نسبت رائے ظاہر کرسکتا ہے کہ وہ خاک کے بعض تغیرات سے پیدا ہوئی ہے لیکن اگر اس کے بعد یہ آخری سوال کیا جائے کہ خاک کہاں سے اور کیونکر پیدا ہوگئی ہے۔ اور اس کے کنہ دریافت کرنے کی کیا فلاسفی ہے تو اس سوال کے حل کرنے سے عاجز رہ جاتا ہے اور اپنے جہل اور عجز کا اقرار کرتا ہے ایسا ہی ہریک چیز کے انتہائی سوال پر اس کو اپنی نادانی کا اقرار کرنا پڑتا ہے۔ اب ہم لکھتے ہیں کہ اگر پرمیشر کا بھی یہی حال ہے کہ اس کا علم بھی انسان کے علم کی طرح کسی حد پر آکر ٹھہرجاتا ہے اور اس حد مقررہ پر آکر اس کو اپنے جہل و نادانی و ناتوانی کا اقرار کرنا پڑتا ہے تو بس پھر ہندوؤں کے پرمیشر کی ساری کیفیت معلوم ہوگئی اور ثابت ہوگیا کہ ہندوؤں کا فرضی پرمیشر علاوہ اور نقصانوں کے جاہل اور عاجز بھی ہے۔ لیکن اگر اس کا علم غیر محدود اور غیر منقطع ہے اور اس درجہ کاملہ کنہ اشیاء تک پہنچا ہوا ہے جس درجہ پر کسی علم کا پہنچنا عامل ہونے کو
بالا ؔ کی پیدائش کی لمیت یہی ہے جس کے تصوّر بالکنہ و تصور بکنہ سے تمام عقول و افہام بشریہ عاجز ہیں اور جس طرح ہریک حیات خدائے تعالیٰ کی حیات سے مستفاض اور ہریک وجود اس کے وجود سے ظہور پذیر اور ہریک تعین اس کے تعین سے خلعت پوش ہے ایسا ہی نقطہ محمدیہ جمیع مراتب اکو ان اور خطائر امکان میں باذنہ ٖ تعالیٰ حسب استعدادات مختلفہ و طبائع متفاوتہ مؤثر ہے اور چونکہ یہ نقطہ جمیع مراتب الٰہیہ کا ظلّی طور پر اور جمیع مراتب کونیہ کا منبعی و اصلی طور پر جامع بلکہ انہیں دونوں کا مجموعہ ہے اس لئے یہ ہریک مرتبہ کونیہ پر جو عقول و نفوسُ کلیہ و جزئیہ و مراتب طبعیہ