عداوؔ ت رکھتا ہے اور یہی چاہتا ہے کہ لوگ بدی کو چھوڑ دیں اور نیکی کو اختیار کریں گو نیکی اور بدی کو جو انسان سے ظہور میں آتی ہے اس کے کارخانۂ سلطنت میں کوئی مفید یا مضر دخل نہیں ہے لیکن ذاتی تقاضا اس کا یہی ہے اب ظاہر ہے کہ اگر خدائے تعالیٰ نے روحوں کو پیدا نہیں کیا تو وہ کسی روح سے اس مطالبہ کرنے کا مستحق نہیں ہے کہ وہ کمال درجہ کی پرستش جو اپنے پیدا کنندہ کے لئے چاہیئے کیوں اس سے صادر نہیں ہوئی۔ قولہ۔ اب رہی یہ بات کہ خداوند تعالیٰ اگر بنانے والا نہیں تو محیط بھی نہیں ہوسکتا یہ تو وہ شاید کہتا جو خدا کا بھی بنانے والا ہوتا کیونکہ خدا کی سب صفات اور طاقتیں اس سبب سے نہیں کہ وہ روحوں کے بنانے والا ہے بلکہ حقیقت میں وہ سب صفات اس میں موجود ہیں۔ اقول۔ آج ہمیں ماسٹر صاحب کے کمالات علمی پر نظر ڈالنے سے بڑا ہی سرور حاصل ہوا ہمیں تعجب ہے کہ آریہ لوگ صاحب موصوف کو دیانند کا کیوں قائم مقام نہیں بناتے۔ ماسٹر صاحب کی نظر میں جو شخص یہ بات کہے کہ خدائے تعالیٰ کا ہریک چیز پر محیط ہونا اس کے خالق ہونے کو مستلزم ہے وہ اس قول سے خدا کے بنانے والا بن جاتا ہے۔ اب نقطہ ؔ مرکز کے اور جس قدر نقاط وتر ہیں ان میں دوسرے انبیاء و رسل و اربابِ صدق و صفا بھی شریک ہیں اور ُ نقطہ مرکز اس کمال کی صورت ہے کہ جو صاحب وتر کو بہ نسبت جمیع دوسرے کمالات کے اعلیٰ و ارفع و اخص و ممتاز طور پر حاصل ہے جس میں حقیقی طور پر مخلوق میں سے کوئی اس کا شریک نہیں ہاں اتباع و پیروی سے ظلی طور پر شریک ہوسکتا ہے۔ اب جاننا چاہئے کہ دراصل اسی نقطہ وسطی کا نام حقیقت محمدیہ ہے جو اجمالی طور پر جمیع حقائق عالم کا