نفع ؔ نقصان اسی کی طرف عائد ہوتا ہے جو خدائے تعالیٰ کی عظمت و سلطنت نہ اس سے کچھ بڑھتی ہے نہ گھٹتی ہے مگر یہ بات بھی نہایت صحیح اور محکم صداقت ہے کہ ربوبیت کا تقاضا بندوں کو ان کی حیثیت بندگی پر قائم رکھنا چاہتا ہے اور جو شخص ذرا تکبر سے سراونچا کرے تو اس کا سر فی الفور کچلا جاتا ہے غرض خدائے تعالیٰ کی ذات میں اپنی عظمت اپنی خدائی اپنی کبریائی اپنا جلال اپنی بادشاہی ظاہر کرنے کا ایک تقاضا پایا جاتا ہے اور سزا و جزا اور مطالبہ اطاعت و عبودیت و پرستش اسی تقاضا کی فرع پڑا ہوا ہے اسی اظہار ربوبیت اور خدائی کی غرض سے یہ انواع اقسام کا عالم اس نے پیدا کررکھا ہے ورنہ اگر اس کی ذات میں یہ جوش اظہار نہ پایا جاتا تو پھر وہ کیوں پیدا کرنے کی طرف ناحق متوجہ ہوتا اور کس نے اس کے سر پر بوجھ ڈالا تھا کہ ضرور یہ عالم پیدا کرے اور ارواح کو اجسام کے ساتھ تعلق دے کر اس مسافر خانہ کو جو دنیا کے نام سے موسوم ہے اپنی عجائب قدرتوں کی جگہ بنادے آخر اس میں کوئی قوت اقتضائے تھی جو اس بنا ڈالنے کی محرک ہوئی۔ اسی کی طرف اس کے پاک کلام میں جو قرآن شریف ہے اشارات پائے جاتے ہیں۔ جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خدائے تعالیٰ نے کل عالم کو اس غرض سے پیدا کیا کہ تا وہ اپنی خالقیت کی صفت سے شناخت کیا جائے اور پھر پیدا کرنے کے بعد اپنی مخلوقات پر رحم اور کرم کی بارشیں کیں تا وہ رحیمی اور کریمی کی صفت سے شناخت کیا جائے ایسا ہی اس نے سزا اور جزا دی تا اس کا
جانناؔ چاہئے کہ دونوں قسم وجود واجب اور ممکن کے ایک ایسے دائرہ کی طرح ہیں کہ جو خط گذرندہ برمرکز سے دو قوسوں پر منقسم ہو۔ وہی خط جو قطر دائرہ ہے جس کو قرآن شریف میں قَاب قوسَین سے تعبیر کیا ہے اور عام بول چال علم ہندسہ میں اس کو وتر قوسین کہتے ہیں وہ ذات مفیض اور مستفیض میں بطور برزخ واقع ہے کہ جو اپنے اخص کمال میں جو انتہائی درجہ کمالات کا ہے نقطہ مرکز دائرہ سے