اقولؔ ۔ میں کہتا ہوں کہ گو بندگی و عبادت کرنے سے انسان کی اپنی ہی بہتری متصور ہے۔ مگر پھر بھی خدا تعالیٰ کی ربوبیت تقاضا کرتی ہے اور جوش مارتی ہے کہ لوگ اس کی سیدھی راہ پر قدم مار کر اور ناکردی کاموں سے بچ کر اور اس کی پرستش و اطاعت میں محو ہوکر اپنی سعادت مطلوبہ کو پالیں اور اگر اس راہ پر چلنا نہ چاہیں تو پھر نہ اپنے لئے بلکہ انہیں کے لئے اس کا غضب بھڑکتا ہے اور طرح طرح کی تنبیہوں میں انہیں مبتلا کرتا ہے اور جو لوگ پھر بھی نہ سمجھیں وہ بُعد اور حرمان کی آگ میں جلتے ہیں۔ یہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ کوئی شخص اس کو یہ کہہ سکے کہ تجھے میرے نفع یا نقصان کی کیا فکر پڑی ہے اور کیوں بار بار ہم کو نصیحتیں کرتا ہے اور الہامی کتابیں بھیجتا ہے اور سزائیں دیتا ہے اگر ہم عبادت کریں گے تو اپنے لئے اور اگر نہیں کریں گے تو آپ نقصان اٹھائیں گے۔ تجھے کیوں ناحق کا جوش و خروش ہے۔ اور اگر کوئی شخص ایسا کہے بھی بلکہ اگر سب دنیا اور تمام آدم زاد متفق ہوکر اس کی خدمت میں یہ گزارش کریں کہ ہم کو آپ اپنی نصیحتوں اور حکموں اور الہامی کتابوں سے معاف رکھیں ہم آپ کا بہشت یا یوں کہو کہ مکتی خانہ لینا نہیں چاہتے ہم اسی دنیا میں گزارہ کرلیں گے آپ مہربانی فرما کر اسی جگہ ہمیشہ کے لئے ہمیں رہنے دیں آخرت کی ہم بڑی بڑی نعمتوں سے باز آئے آپ ہمارے اعمال میں ذرا دخل نہ دیا کریں اور جزا و سزا وغیرہ تجویزیں جو ہمارے واسطے آپ کرتے رہتے ہیں ان سب سے آپ دست بردار رہیں
فرمایاؔ ہے
ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰىۙ
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰىۚ
پھر نزدیک ہوا (یعنی اللہ تعالیٰ سے) پھر نیچے کی طرف اُترا (یعنی مخلوق کی طرف تبلیغ احکام کے لئے نزول کیا) پس اسی جہت سے کہ وہ اوپر کی طرف صعود کرکے انتہائی درجہ قرب تام کو پہنچا اور اس میں اور حق میں کوئی حجاب نہ رہا اور پھر نیچے کی طرف اس نے نزول کیا اور اس میں اور خلق میں کوئی حجاب نہ رہا یعنی چونکہ