روحوںؔ اور جسموں کو باہم جوڑا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ ایسا نالائق پرمیشر ہرگز جوڑنے پر بھی قادر نہیں ہوسکتا اگر روحوں کی حقیقت کا اس کو پورا پورا علم ہوتا تو وہ بے شک ان کو بناسکتا کیونکہ ایک چیز کا پورا پورا علم ہونا اس کے بنانے کو مستلزم ہے اور جب کہ وہ روحوں کے بنانے پر قادر نہیں تو اس سے صاف ثابت ہے کہ اس کو روحوں کے خواص اور باطنی قوتوں اور کیفیتوں کا پورا پورا علم بھی نہیں اور جبکہ علم کامل نہیں تو ایسے ادھورے اور ناقص علم سے وہ جوڑنے جاڑنے پر کیونکر قادر ہوسکتا ہے اگر کوئی ثبوت ہے تو پیش کرنا چاہئے اور اگر بفرض محال یہ ثابت بھی ہوجائے کہ ایسا ادھورا اور نکما پرمیشر ارواح اور اجسام کو جوڑسکتا ہے تو البتہ ایک ناقص جیسی شکرگزاری کے لائق ٹھہرے گا جس کا عدم وجود برابر ہے۔ مگر یہ تو کبھی نہ ہوگا کہ ارواح جو بکلّی آزاد اور غیر مخلوق اور قدیم ہونے میں اس کے ہمسر اور انادی ہونے میں اس کے ہم پہلو اور واجب الوجود ہونے میں اس کے ہم رتبہ ہیں اس کو اپنا رب سمجھ لیں اور جو اپنے رب اور پیدا کنندہ کی پرستش اور عبادت کرنی چاہئے اس عالی شان عبادت کا اس کو مستحق ٹھہراویں سو یہی مطلب تھا جس کو ہم نے اعتراض میں لکھا اور آپ نے نہ اس کو غور کرکے سمجھا اور نہ اس کا کچھ جواب دیا۔
قولہ۔ سوائے اس کے خداوند کریم نہایت دیالو کرپالو ہے اس کی یہ ہدایت کہ پرستش کرنی چاہئے انسان کی بہتری کے لئے ہے نہ کہ خود خدا کی اس میں کوئی عزت بڑھتی ہے۔
عینؔ ہوجاتا ہے اور اپنے نفس کو بکلی درمیان سے اٹھا کر آئینہ صاف کا حکم پیدا کرلیتا ہے اور وہ آئینہ ذوجہتین ہونے کی وجہ سے ایک جہت سے صورت الٰہیہ بطور ظلّی حاصل کرتا ہے اور دوسری جہت سے وہ تمام فیض حسبِ استعداد و طبائع مختلفہ اپنے مقابلین کو پہنچاتا ہے اسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے