ہمارؔ ے نفع یا نقصان سے آپ کچھ تعلق نہ رکھیں تو یہ عرض ان کی ہرگز قبول نہیں ہوسکتی اگرچہ اس کے قبول کرانے کے لئے تمام عمر روتے پیٹتے رہیں پس اس سے صاف ثابت ہے کہ صرف یہی بات نہیں کہ بندہ اپنی حالت میں آزاد ہے اور اپنے لئے بندگی کرتا ہے اور پرمیشر کو اس سے کچھ تعلق نہیں بلکہ جلال اور عظمت الٰہی کا تقاضا بھی یہی ہے کہ بندہ شرط بندگی بجالاوے اور نیک راہوں کو اختیار کرے اور اس کی الوہیت بالطبع تقاضا کرتی ہے کہ اس کے آگے عبودیت کے آثار ظاہر ہوں اور اس کی کاملیت ذاتی جوش سے یہ چاہتی ہے کہ جو نقصان سے خالی نہیں ہے اس کے آگے تذلل کرے یہی وجہ ہے کہ نافرمانوں اور سرکشوں اور ان سب کو جو شرارتوں پر ضد کرتے ہیں انجام کار اس کا عذاب پکڑتا ہے ورنہ اس بات پر کوئی وجہ قابل اطمینان پیدا نہیں ہوتی کہ بغیر پائے جانے کے کسی ذاتی قوت کے جو سزا جزا دینے کے لئے اس کی ذات بابرکات ازل سے رکھتی ہو کیوں خواہ نخواہ وہ اس فکر میں لگا رہتا ہے کہ نیکی کرنے والوں کو نیک پاداش اور بدی کرنے والوں کو بدپاداش پہنچاوے بلکہ اگر کوئی قوت ذاتی جو جزا سزا دینے کے لئے محرک ہو اس میں نہ پائی جاوے تو یہ چاہئے تھا کہ خاموشی اختیار رکھتا اور جزا سزا کی چھیڑ چھاڑ سے بکلّی دست کش رہتا سو اگرچہ یہ بات تو صحیح ہے کہ انسان کے اعمال کا وہ ؔ اپنے صعود اور نزول میں اتم و اکمل ہوا اور کمالات انتہائیہ تک پہنچ گیا اس لئے دو قوسوں کے بیچ میں یعنی وتر کی جگہ میں جو قُطر دائرہ ہے اتم و اکمل طور پر اس کا مقام ہوا بلکہ وہ قوس الوہیت اور قوس عبودیت کی طرف اس سے بھی زیادہ تر جو خیال و گمان و قیاس میں نہیں آسکتا نزدیک ہوا مثلاً صُورت اُن دو قوسوں کی یہ ہے۔ اس شکل میں جو خط مرکز دائرہ کو قطع کرتا ہے یعنی جو قطر دائرہ ہے وہی قَاب قوسَین یعنی دونوں قوسوں کا وتر ہے۔