بنؔ پڑا بڑا زور مارا بہت کچھ کوشش کی مگر چونکہ اس کا ادھور پن ایسا نہیں ہے جو کسی کے چھپانے سے چھپ سکے اس لئے بجز بار بار کی خجالت کے اور کچھ اس قیل وقال سے آپ کو حاصل نہیں ہوا۔ بھلا آپ ہی فرمائیں کہ آپ نے پہلی قباحتوں کے جواب میں کیا خاک ثابت کیا ہے۔ جس حالت میں آپ لوگ اپنے ہی ُ منہ سے قائل ہیں کہ تمام روحیں خودبخود ہیں اور ان کے تمام خواص بھی خودبخود۔ ان کی تمام قوتیں بھی خودبخود ایسا ہی پرکرتی بھی خودبخود۔ جسم کا ہر ایک ذرّہ بھی خودبخود اور ان کے تمام خواص اور قوتیں خودبخود۔ ان کا ازلی و ابدی ہونا بھی خودبخود۔ پرمیشر ہو یا نہ ہو وہ سب بذات خود قائم بذات خود واجب الوجود غرض سارا جہان اپنے دونوں ٹکڑوں کے ساتھ خودبخود ہے تو ان خواص اور قوتوں اور دائمی بقا میں جو روحوں کو خودبخود حاصل ہیں کون سی شکر گزاری کا پرمیشر مستحق ٹھہرسکتا ہے۔ کیا ان چیزوں میں سے پرمیشر نے بھی اپنے گھر سے کچھ دیا ہے اور اس کی گرہ سے بھی کچھ خرچ آیا ہے۔ رہا یہ بار بار کا رونا جو پرمیشر نے
وجوؔ د میں بہ تمامتر صفائی منعکس ہوجاتی ہیں۔ اور یہ انعکاس ہریک قسم کی تشبہ سے جو پہلے اس سے بیان کیا گیا ہے اتم و اکمل ہے کیونکہ یہ صاف ظاہر ہے کہ جیسے ایک شخص آئینہ صاف میں اپنا منہ دیکھ کر اس شکل کو اپنی شکل کے مطابق پاتا ہے وہ مطابقت اور مشابہت اس کی شکل سے نہ کسی غیر کو کسی حیلہ یا تکلّف سے حاصل ہوسکتی ہے اور نہ کسی فرزند میں ایسی ہوبہو مطابقت پائی جاتی ہے اور یہ مرتبہ کس کے لئے میسر ہے اور کون اس کامل درجہ قرب سے موسوم ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اسی کو میسر آتا ہے کہ جو الوہیت و عبودیت کے دونوں قوسوں کے بیچ میں کامل طور پر ہوکر دونوں قوسوں سے ایسا شدید تعلق پکڑتا ہے کہ گویا ان دونوں کا