اِس ؔ موقع کے پڑھنے کے وقت اس رسالہ کا وہ حاشیہ بھی پڑھ لیں کہ جو حاشیہ ملحقہ اس متن سے پہلے تحریر پاچکا ہے۔ قولہ۔ اس کے آگے مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ اگر سب روحیں غیرمخلوق اور خودبخود ہیں تو پھر خدا کسی روح سے بندگی کرانے کا مستحق نہیں رہے گا۔ کیونکہ سب روحیں اسے کہہ سکتی ہیں کہ جب کہ تو نے ہمیں پیدا ہی نہیں کیا اور نہ ہماری طاقتوں اور قوتوں اور استعدادوں کو تو نے بنایا تو پھر کس استحقاق سے ہم سے اپنی پرستش چاہتا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ میں نے پہلے قباحتوں کے جواب میں ثابت کردیا ہے کہ بغیر پرمیشر کے جوڑنے جاڑنے کے تمام روحیں اور ان کی طاقتیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ پس جس نے جوڑنے جاڑنے سے آرام اور سکھ میں ترقی کرنے کا سامان بخشا کیا وہ شکر گزاری اور عبادت کے لائق نہیں۔ اقول۔ افسوس کہ ہرچند اس ادھورے اور نکمّے پرمیشر کی وکالت میں آپ نے جہاں تک اِنؔ دونوں درجوں میں تفاوت درمیان ہے غرض اس درجہ میں محبت کمال لطافت تک پہنچ جاتی ہے اور مناسبت اور مشابہت بال بال میں ظاہر ہوجاتی ہے۔ خیال کرنا چاہئے کہ اگرچہ ایک شخص کمال عشق کی حالت میں اپنے معشوق سے ہمرنگ ہوجاتا ہے۔ مگر جو شخص اپنے باپ سے جس سے وہ نکلا ہے مشابہت رکھتا ہے اس کی مشابہت اور ہی آب و تاب رکھتی ہے۔ تیسری قسم کا قرب ایک ہی شخص کی صورت اور اس کے عکس سے مشابہت رکھتا ہے یعنی جیسے ایک شخص آئینہ صاف و وسیع میں اپنی شکل دیکھتا ہے تو تمام شکل اس کی معہ اپنے تمام نقوش کے جو اس میں موجود ہیں عکسی طور پر اس آئینہ میں دکھائی دیتی ہے ایسا ہی اس قسم ثالث قرب میں تمام صفات الٰہیہ صاحب قرب کے