ہتک ؔ عزت نہیں ہوسکتا کیونکہ اجتماع نقیضین محال و ممتنع ہے برخلاف اس کے جو چیزیں خدا تعالیٰ کے ماتحت وزیر حکم ہیں ان کو اس کے ماتحت قبول کرکے پھر اس کی حدود قدرت سے انہیں باہر رکھ لینا اور باوصف صدہا عجائب و غرائب خواص کے جو ان چیزوں کے اندر بھرے ہوئے ہیں جو ایک ناکارہ کام جوڑنے جاڑنے سے ہزارہا مراتب بہتر ہیں پھر بھی ان چیزوں کو خدائے تعالیٰ کی پیدائش اور ان کے ہاتھ کی صنعت ہونے سے الگ کا الگ رہنے دینا اور پرمیشر کو صرف جوڑنے جاڑنے والا جو اس کے پہلے کاموں سے قطع تعلق کی حالت میں ادنیٰ سا کام ہے خیال کرنا اگر ایسے خیال ُ پر اختلال سے بھی آپ کے پرمیشر کی عزت دور نہیں ہوتی تو یہ عزت بھی عجیب عزت ہے غرض یہ قیاس آپ کا بالکل قیاس مع الفارق ہے جو خدائے تعالیٰ کی ماتحت چیزوں کا اس کی ذات و صفات پر آپ کررہے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ آپ اس صاف صاف فرق کو سمجھ کر بہت شرمندہ ہوں گے اور دل میں پچھتائیں گے کہ ایسی فضول باتیں منہ سے کیوں نکالیں۔ بالآخر میں آپ کو یہ بھی یاد دلاتا ہوں کہ آپ
ایکؔ روحانی نسبت محسوس ہوتی ہے ایسا ہی اس کو بھی ہر وقت باطنی طور پر اس نسبت کا احساس ہوتا رہتا ہے اور جیسے بیٹا اپنے باپ کا ُ حلیہ اور نقوش نمایاں طور پر اپنے چہرہ پر ظاہر رکھتا ہے اور اس کی رفتار اور کردار اور خواور بوبصفائی تام اس میں پائی جاتی ہے علیٰ ہذا القیاس یہی حال اس میں ہوتا ہے اور اس درجہ اور قرب اول کے درجہ میں فرق یہ ہے کہ قرب اول کا درجہ جو خادم اور مخدوم سے تشبیہہ رکھتا ہے وہ بھی اگرچہ اپنے کمال کے رو سے اس درجہ ثانیہ سے نہایت مشابہ ہے لیکن یہ درجہ اپنی نہایت صفائی کی وجہ سے تعلق مادر زاد کے قائم مقام ہوگیا ہے اور جیسا باعتبار نفس انسانیت کے دو انسان مساوی ہوتے ہیں لیکن بلحاظ شدت و ضعف خواص انسانی کے ظہور آثار میں متفاوت واقع ہوتی ہیں ایسا ہی